.

جوہری پروگرام مذاکرات، خامنہ ای کا سرخ لکیر کا اعادہ

"یورینیم افزودگی میں 20 گنا اضافے اور جوہری ریسرچ پر سمجھوتہ نہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اپنے ملک کے متنازعہ جوہری پروگرام کی سرخ لکیروں کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا ہے۔ اس امر کا اعادہ چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات کے اگلے ہفتے شروع ہونے والے نئے دور کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ سپریم لیڈر نے یورینیم افزودگی بیس گنا زیادہ کرنے پر اصراراور سائنسدانوں کا کام کسی بھی صورت روکنے یا سست کرنے سے انکار کرنے کا کہا ہے۔

چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری مذاکرات کا آغاز پچھلے سال ہوا تھا جس کے نتیجے میں 24 نومبر 2013 کو ابتدائی جوہری معاہدے کے بعد ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے اور تکنیکی پہلووں کا جائزہ لینے کے حوالے سے بھی کئی مراحل طے ہو چکے ہیں ۔ اسی ابتدائی معاہدے کی بدولت ایران کو اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے بھی ریلیف دیا جا چکا ہے۔

اب اگلے ہفتے ان چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ ویانا میں مذاکرات کا نیا دور شروع ہونے جارہا ہے۔ علی خامنہ ای کا تازہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکا نے اپنے وزیر خارجہ جان کیری اور یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرائن آشٹن نے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔ مذاکرات کے اس اہم دور میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف بھی شریک ہو رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کیتھرائن آشٹن اگلے منگل کے روز پہلے جواد ظریف کے ساتھ مذاکرات کریں گی اور بعدازاں آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں امریکی وزیر خارجہ بھی شریک ہو جائیں گے۔ مذاکرات کا یہ اہم دور 15 اکتوبر سے شروع ہو گا۔ اس موقع پر امریکا کے دیگر اعلیٰ سفارتکار بھی ایران اور یورپی یونین کے ہم منصب حکام کے ساتھ ملاقات کریں گے۔

امریکی سفارتی حکام نے اس بارے میں کہا "مذاکرات کے دوران ہماری توجہ اس امر پر ہو گی کہ "آیا 24 نومبر کو ہونے والے ابتدائی معاہدے کی بنیاد پر ہم کسی باضابطہ معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں یا نہیں۔

امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا "امریکی حکام ابھی بھی سمجھتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے یہ ایک موزوں وقت ہے کہ ایک معاہدے پر پہنچ کر بین الاقوامی برادری کو یہ یقین دلایا جائے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔"

واضح رہے معاہدے کے لےلیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن کے جولائی میں پورا نہ ہو سکنے کے بعد امریکا، روس ، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے نومبر تک معاہدے کی امید لگا رکھی ہے۔ لیکن یہ مذاکرات ایران کی مستقبل میں یورینیم کی افزودگی کی حد کے تعین کے معاملے پر رکے ہوئے ہیں۔

اس بارے میں جین پاسکی کا کہنا ہے "ہم ابھی تک اہم ترین ایشو کی تفہیم نہیں پا سکے ہیں، تو مذاکرات کا مقصد کیا رہ جاتا ہے۔" تاہم پاسکی نے کہا "ابھی کئی دور اور چلیں گے اور ان میں ماہرین بھی شامل ہوں گے۔"

ادھر ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی سرکاری ویب سائٹ پر ایک ایسی تصویر شائع کی گئِ ہے،جس میں بتایا گیا ہے کہ کسی معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے ایرانی مذاکرات کاروں کے سامنے 11 نکات کا ہونا ضروری ہے۔

ان نکات میں سے اہم ترین نکتہ یورینیم افزودگی کی ایران کے لیے مناسب ضرورت کا ادراک ہے۔ ویب سائٹ پر یورینیم افزودگی کی بیان کردہ سطح ایران کی موجودہ ضرورت سے 20 گنا زیادہ ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے یورینیم افزودگی کی ویب سائٹ پر بیان کردہ سطح اس ایٹمی ری ایکٹر کی فعالیت کے لیے ضروری ہے جو روس کی طرف سے 2021 تک دستیاب ہوگا۔

اس کے مقابلے میں امریکا اور مغربی ممالک ایران کی یورینیم افزودگی کی سطح کو کم کرنا چاہتی ہیں۔ سپریم لیڈر کی ویب سائٹ پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایٹمی سائنسدانوں کا کام کسی بھی صورت رکنا یا سست نہیں ہونا چاہیے۔