.

سوشل میڈیا پر سعودی خواتین کی ڈرائیونگ کے حق میں مہم

26 اکتوبر کا دن اس مہم میں علامتی اہمیت اختیار کر گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دلوانے کے لئے مہم چلانے والے سعودی سماجی کارکنان نے اپنی مہم کو مزید تیز کرنے کے لئے سوشل میڈیا کو بھی استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دلانے کے لیے سرگرم ایک خاتون نے اس حوالے سے کہا ''یہ مملکت سعودیہ میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت کے مطالبے میں ایک بار پھر جان ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔"

اس سلسلے میں ایک آن لائن پٹیشن بھی آگے بڑھائی جا رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت خواتین کے گاڑی چلانے پر عاید پابندی ختم کرے۔ اس استدعا پر اب تک 2400 افراد نے دستخط کر کے اس مہم کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

اس مہم کے لیے متحرک کارکن خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر پوسٹ کریں جن میں وہ گاڑی چلاتے ہوئے دیکھی جاسکیں۔ اس مقصد کے لیے ٹویٹر اور فیس بک کے علاوہ یوٹیوب اور انسٹاگرام کو بھی خوب استعمال کیا جارہا ہے۔

خاتون سماجی کارکن نسیمہ السعدہ نے کہا "ہم اس مہم کے ذریعے اپنے دیرینہ مطالبے کی تجدید کر رہے ہیں کہ خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی جائے۔" نسیمہ السعدہ نے مزید کہا "اب یہ ایک قومی مہم ہے، یہ رکے گی نہیں۔ ہم اس مہم کے دوران خواتین سے کہہ رہے ہیں کہ وہ گاٰڑی پر سوار ہوں اور سڑکوں پر نکل آئیں۔"

السعدہ اور ان کی ہم خیال ساتھیوں نے پچھلے سال دیگر سماجی کارکنوں کے ساتھ مل کر 26 اکتوبر کو اس مقصد کے لیے ایک علامت بنا دیا ہے۔ اس موقع پر مہم میں شامل 16 خواتین کو جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔