.

داعش کا ایک تہائی کوبانی پر کنٹرول ہو گیا

اتحادیوں کی بمباری کے باوجود قصبے کے مشرقی حصوں پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کی ترکی اور شام کی سرحدی کرد قصبے قبضے کے لیے یلغار کی نئی حکمت عملی کامیاب ہو رہی ہے اور داعش نے قصبے کے ایک تہائی سے زائد حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔

کوبانی پر قبضے کی تین ہفتوں سے جاری جنگ کے دوران اب تک دونوں اطراف کا بھاری جانی نقصان ہو چکا ہے۔ تاہم کردوں کی مدد کے لیے اتحادی طیاروں کی زبردست بمباری کے باوجود داعش کی کوبانی میں وسیع علاقے میں موجودگی کی تصدیق ہو گئی ہے۔

اس امکانی قبضے کے خطرے کو بھانپتے ہوئے پینٹاگان کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی نے کئی گھنٹے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کوبانی داعش کے قبضہ میں جا سکتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا '' ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیے ہے۔ ہم زمین پر موجود نہیں اس لیے کرد جنگجووں کی مدد کے لیے سب کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔"

شام کی صورت حال پر نظر رکھنے والی آبزرویٹری کے حوالے سے عالمی خبر رساں اداروں نے تصدیق کی ہے کہ داعش نے کوبانی کے ایک تہائی سے زیادہ حصے پر کنٹرول کرلیا ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق اس زیر قبضہ آنے والے علاقے میں قصبے کا مشرقی، جنوب مشرقی اور شمال مشرقی علاقہ شامل ہے۔

امریکی صدر اوباما نے داعش کے خلاف جاری مہم کے علاوہ کوبانی میں کردوں کے لیے مشکلات اور اتحادیوں کی بمباری کے باوجود داعش کی پیش قدمی کے بارے میں پینٹاگان میں فوجی حکام سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

بعد ازاں اتحادی طیاروں نے جمعرات کے روز بھی کوبانی میں داعش کی پیش قدمی روکنے کے لیے زبردست بمباری کی لیکن اس کے باوجود داعش وہیں موجود ہے۔

پینٹا گان کے ترجمان اسی وجہ سے دوٹوک انداز میں کہہ چکا ہے کہ کوبانی کو بچانے کے لیے فضائی قوت کافی نہیں ہے۔

دوسری جانب ترکی نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ یکطرفہ طور پر شام میں کارروائی نہیں کرے گا۔ ترک حکام کے مطابق یہ حقیقت پسندانہ بات نہیں ہے کہ صرف ترکی سے توقع کی جائے کہ وہ اکیلا شام کی سرزمین پر اپنی فوج اتارے۔