.

کینیڈا: 80 عسکریت پسندوں کو جیل بھیجنے کی کوشش

القاعدہ اور دوسرے گروپوں کیلیے کینیڈا اہم ہے، سرکاری رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا کے سکیورٹی حکام کئی برسوں سے ان نوجوانوں کے تعاقب میں ہے جو عسکریت پسندوں کا حصہ بننے کے لیے سفر کرتے رہے ہیں ، ان میں وہ نوجوان بھی شامل ہیں جو داعش کو جوائن کر چکے ہیں۔ کینیڈا ایسے کم ازکم 80 افراد کو جیل بھیجنے کا خواہاں ہے۔

کینیڈین پارلیمنٹ انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کی تین روز پہلے ہی منظوری دے چکی ہے۔ اس منظوری کے تحت کینیڈا کے چھ جنگی طیارے عراق میں داعش کے خلاف کارروائیوں میں شریک ہوں گے۔ واضح رہے کینیڈا کے شہری یا رہائشی 130 افراد اب تک داعش کا حصہ بن چکے ہیں۔

عوامی تحفظ کے وزیر سٹیون بلانی کے مطابق ملک سے باہر عسکریت کے لیے جانے والوں میں سے متعدد ہلاک ہو چکے ہیں اور کئی ابھی وہیں ہیں۔ سکیورٹی حکام کے مطابق تقریبا 90 افراد ایسے ہیں جو مشکوک ہیں ان میں سے 63 کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ ان میں سے کئی ایسے ہیں جو عسکریت کے لیے جا چکے ہیں اور کئی ایسے ہیں جو جانے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔

کینیڈا کی فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ مائیکل کولمب کے مطابق "8 افراد عسکریت پسندوں کے لیے فنڈ ریزنگ اور پراپیگنڈہ میں ملوث رہے ہیں۔" انہوں نے یہ بھی کہا "میں یہ نہیں چاہتا کہ لوگ یہ سمجھیں کہ یہ سب شام اور عراق میں محاذ جنگ پر مانے ہوئے جہادی رہے ہیں کیونکہ ایسی اطلاعات ابھی ہمارے سامنے نہیں ہیں۔"

عوامی تحفظ کی وزارت نے ایک ایسی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ "کینیڈین شہری شام، صومالیہ، عراق، الجزائر اور افغانستان میں جہادیوں کے ساتھ روابط رکھتے ہیں۔"

رپورٹ کے مطابق 30 کینیڈین شہری مبینہ طور پر دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں۔" رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے "اگرچہ القاعدہ پہلے کے مقابلے میں بہت کمزور ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود القاعدہ اور دوسرے تشدد پسند گروہوں نے کینیڈا کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔"