.

ترکی: کردوں کے پُرتشدد مظاہرے ،31 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے مختلف شہروں میں کرد نوازوں نے شام کے سرحدی شہر کوبانی میں دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں کی چڑھائی اور ان کے خلاف ترک حکومت کے عدم اقدام پر احتجاجی مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں اور گذشتہ چار روز کے دوران ان مظاہروں اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں اکتیس افراد ہلاک اور تین سو ساٹھ سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

ترک وزیرداخلہ افقان علاء نے جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس میں انتیس مظاہرین کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ جنوبی شہر بنگول میں مسلح افراد نے جمعرات کی شب فائرنگ کرکے دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔وہ اس شہر میں مظاہرے کی جگہ کا معائنہ کرنے گئے تھے۔ان پر فائرنگ کرنے والے پانچ مشتبہ دہشت گردوں کوبھی ہلاک کردیا گیا ہے۔

ترکی کے پانچ صوبوں میں کردوں کے پُرتشدد مظاہروں کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور امن وامان کی بحالی کے لیے فوج کو ٹینکوں کے ساتھ تعینات کردیا گیا ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ان مظاہروں کو کرد باغیوں اور انقرہ حکومت کے درمیان جاری امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قراردیا ہے اور کہا ہے کہ کسی کو ترکی کے امن کو تہ وبالا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

درایں اثناء شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی مستورا نے ترکی سے اپیل کی ہے کہ وہ رضاکاروں کو کوبانی کے تحفظ کے لیے جانے کی اجازت دے۔انھوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2170 کا حوالہ دیا ہے جس میں ہرکسی سے کہا گیا ہے کہ وہ شام میں قتل عام کو رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت کوبانی میں پانچ سے سات سو کے درمیان ضعیف العمر افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ دس بارہ ہزار افراد شام اور ترکی کے درمیان سرحد پر موجود ہیں۔

ترک میڈیا کی اطلاع کے مطابق ملک کے جنوب مشرق میں واقع کرد اکثریتی علاقے سمیت چھے شہروں میں کرد نواز مظاہرین سڑکوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ کوبانی میں داعش کا مقابلہ کرنے والے محصور کرد جنگجوؤں کو مزید اسلحہ اور کمک مہیا کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے تباہ کن فضائی حملوں کے باوجود کوبانی (عین العرب) پر ٹینکوں اور توپ خانے کے ساتھ چڑھائی کردی ہے۔انھوں نے اس شہر کے ایک تہائی حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کی شہر کے گلی کوچوں میں کرد جنگجوؤں سے شدید لڑائی ہورہی ہے۔

بعض یورپی ممالک نے کرد جنگجوؤں کو مسلح کیا ہے لیکن مظاہرین نے اس اسلحی امداد کو ناکافی قرار دیا ہے اور وہ ہنگامی بنیاد پر کرد جنگجوؤں کو مزید امداد مہیا کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔