.

مراکشی سیاست دان نے ساتھی پارلیمنٹیرین کی انگلی چبا ڈالی

مفاہمتی کوششیں ناکام، ایوان مچھلی منڈی بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پارلیمنٹ کسی بھی ملک کے سیاست دانوں کے سیاسی و فروعی اختلافات کے اظہار اور ان کے حل کا بہترین فورم ہے لیکن بعض اوقات عوام کے منتخب نمائندے مقدس ایوان میں اپنے سیاسی مخالفین کو زچ کرنے کے لیے زبان درازی کے ساتھ ساتھ دست درازی پربھی اتر آتے ہیں جس سے ان کے معزز انسان ہونے میں بھی شبہ ہونے لگتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق افریقی عرب ملک مراکش کی پارلیمنٹ میں بھی ایسا ہی ایک تماشا حال ہی میں دیکھنے کو ملا جہاں ایک رکن پارلیمنٹ نے مخالف سیاسی جماعت کے رُکن کا ہاتھ پکڑ کراس کی انگلی چبا ڈالی۔

رپورٹ کے مطابق یہ بچگانہ حرکت مراکشی فرمانروا شاہ محمد ششم کے ایوان سے خطاب کے کوئی ایک گھنٹے بعد دیکھنے میں آئی۔ یہ آئینی سال نو کا پہلا افتتاحی اجلاس تھا جس میں بادشاہ سلامت نے بھی خطاب کرنا تھا۔ وہ خطاب کے بعد تو چلے گئے لیکن ان کے جانے کے بعد ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔ اپوزیشن جماعت "الاصالہ والمعاصرہ" کے رُکن عزیز البار نے ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی "استقلال" کے سربراہ حمید شباط کے درمیان تلخ کلامی پر اول الذکر نے دوسرے کی انگلی پکڑ چبا ڈالی۔ موقع پر موجود دیگر ارکان پارلیمان نے بیچ بچاؤ کی حتی‌الامکان کوشش کی مگر ان کی ایک نہ چلی اور دونوں سیاست دانوں نےایوان میں خوب تماشا لگایا۔

دونوں رہ نماؤں کے درمیان تلخ کلامی اس وقت شروع ہوئی جب پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران استقلال پارٹی کے حمید شباط نے عزیز البار کو عید کی مبارک باد پیش کی۔ اس کے جواب میں البار نے نہایت ہی تُرش لہجے میں اسے 'چور' کہا اور کہا کہ آپ نے"فاس" شہر کو بیچ ڈالا ہے۔ اللہ آپ کو اپنی پکڑ میں لے"۔ فاس کو فروخت کرنے سے ان کا اشارہ استقلال پارٹی کے اس شہرمیں میئر منتخب ہونے کی طرف تھا۔ الاصالہ پارٹی اس عہدے سے محروم رہ گئی تھی اور البار صاحب کو اس کا سخت غصہ تھا۔