.

ایران شام سے قابض فوجوں کو نکالے: سعودی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں موجود اپنی ''قابض'' فوجوں کو نکال لے تاکہ بحران کے حل میں مدد مل سکے۔

انھوں نے جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹر اسٹینمئیر کے ساتھ جدہ میں سوموار کو مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''ہمارے ایرانی رجیم کی پالیسی کے بارے میں تحفظات ہیں،اس کے ساتھ بطور ملک یا ایرانی عوام کے بارے میں کوئی تحفظات نہیں ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''بہت سے تنازعات میں ایران مسئلے کا حصہ ہے،حل کا نہیں۔انھوں نے ایران پر کھلے لفظوں میں اپنی فوجی شام میں بھیجنے کا الزام عاید کیا ہے جو اس وقت شامیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

شہزادہ سعود الفیصل نے کہا:''اس معاملے میں ہم یہ کَہ سکتے ہیں کہ ایرانی فورسز شام میں قابض فورسز ہیں جو صدر بشارالاسد کی حمایت کر رہی ہیں''۔انھوں نے شامی صدر کو ایک غیر قانونی لیڈر قرار دیا ہے۔

سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف برسرپیکار باغی گروپوں کی حمایت کررہے ہیں جبکہ ایران شامی صدر کو مالی اور فوجی امداد مہیا کررہا ہے۔البتہ وہ اس بات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے کہ اس نے بشارالاسد کی حمایت میں شام میں اپنے کوئی فوجی بھیجے ہیں۔ تاہم اس کی آلہ کار لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ہزاروں جنگجو شام میں موجود ہیں اور اسدی فوج کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے اس تناظر میں ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ شام میں حل کا حصہ بننا چاہتا ہے تو اس کو وہاں سے اپنی فورسز کو نکالنا ہو گا۔ اسی طرح یمن اور عراق میں جاری بحرانوں کے حل کے لیے بھی وہاں سے اپنے فوجیوں کو نکال لینا چاہیے۔

ایران اور سعودی عرب کے عراق اور شام میں جاری خانہ جنگیوں کے علاوہ لبنان ، یمن اور بحرین میں سیاسی بحرانوں کے حوالے سے بھی اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن دونوں ممالک سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف عراق اور شام میں امریکا کی قیادت میں جنگ میں متفق نظر آتے ہیں اور سعودی عرب داعش کے خلاف جنگ میں اتحاد کا حصہ ہے۔سعودی عرب اور دوسری خلیجی ریاستیں ایران پر عرب ریاستوں کے داخلی امور میں مداخلت کے بھی الزامات عاید کرتی رہتی ہیں۔

اقوام متحدہ میں متعین سعودی سفیرعبداللہ المعلمی نے کچھ عرصہ قبل العربیہ نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ''اگر خطے میں ایران کوئی مثبت کردار ادا کرتا ہے اور عرب ممالک کے داخلی امور میں کوئی مداخلت نہیں کرتا ہے تو پھر اس کو خوش آمدید کہا جائے گا اور سعودی عرب اس کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہوگا''۔

سعودی عرب ایک عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بھی اپنے شکوک اور خدشات کا اظہار کرتا چلا آ رہا ہے۔اس کو خدشہ ہے کہ ایران اس کے ذریعے جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے لیکن ایران اس الزام کی کئی مرتبہ تردید کرچکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔