.

شامی باغیوں کے ساتھ جھڑپیں، 15 ایرانی و افغان جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت میں لڑنے والے ایرانی پاسداران انقلاب کے 10 اور "مدافعان زینب" نامی ملیشیا سے تعلق رکھنے والے پانچ افغان جنگجو باٍغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایرانی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ ایرانی اور افغان جنگجوؤں کی ہلاکتیں پچھلے تین روز میں‌ ہوئی ہیں۔ مقتولین کو ایران کے شہروں قم، مشہد، شاھرود، رامین اور بیشو میں سپرد خاک کیا گیا۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پانچ ایرانی جنگجو جمعرات کو شام میں لڑائی میں مارے گئے تھے جنہیں شمال مشرقی ایرانی شہر مشہد میں دفن کیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی"ایرنا" کے مطابق صدر بشار الاسدکی حمایت میں لڑنے والے پانچ افغان شیعہ جنگجوؤں کی میتیں ہفتے کے روز ایران لائی گئیں جنہیں مذہبی مرکز قم میں سپرد خاک کیا گیا۔ مقتولین کی نماز جنازہ اور تدفین میں ایرانی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکار بھی شریک ہوئے۔

خیال رہے کہ ایران کا دعویٰ ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں اس کی فوج اور عام شہری براہ راست لڑائی میں شامل نہیں ہیں۔ دمشق میں ایرانی پاسداران انقلاب کے افسر اور جوان صرف بشارالاسد کی فوج کی تربیت اور مشاورت کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ تہران حکومت کے اس دعوے کے برعکس شام اور عراق میں بڑی تعداد میں ایرانی فوجیوں اور دیگر غیر سرکاری اجرتی قاتلوں کے مارے جانے کی اطلاعات بھی مسلسل مل رہی ہیں۔

ایران میں موجود افغان باشندوں کو شام کی جنگ میں جھونکے جانے کی اطلاعات پر کابل تہران سے سخت احتجاج بھی کر چکا ہے۔ رواں سال کے آغاز میں یہ خبریں تواتر سے شائع ہوتی رہیں کہ ایران اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھنے والے افغان پناہ گزینوں کو شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں لڑنے والے جنگجوؤں میں بھرتی کر رہا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایران حکومت شام میں صدر اسد کے دفاع میں لڑنے والے افغان جنگجوؤں کو فی کس 500 سو ڈالر بہ طور اجرت دے رہا ہے۔