.

ترکی کا امریکا کو انچرلیک ائیربیس دینے سے انکار

دونوں ممالک کے درمیان شامی باغیوں کو عسکری تربیت دینے کا سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے امریکا کو انچرلیک میں واقع اپنے ائیربیس کو دولت اسلامی عراق وشام( داعش ) کے جنگجوؤں کے خلاف شام میں فضائی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے اور اس ضمن میں منظرعام پر آنے والی اطلاعات کی تردید کی ہے۔

ترکی کے ایک سرکاری عہدے دار نے کہا ہے کہ ملک کے جنوب میں واقع انچرلیک ہوائی اڈے کو امریکا کو مزید استعمال کرنے کی اجازت دینے سے متعلق کوئی نیا سمجھوتا نہیں ہوا ہے۔یہ ہوائی اڈا امریکی فضائیہ قبل ازیں لاجسٹیکل مقاصد اور انسانی امداد کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔

انقرہ میں اس ترک عہدے دار کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ انچرلیک ائیربیس کو استعمال کرنے کی اجازت دینے سے متعلق بات چیت جاری ہے اور یہ ترکی کی پہلے سے وضع کردہ شرائط کے مطابق ہی ہورہی ہے۔ترکی نے قبل ازیں شام میں نوفلائی زون اور ایک محفوظ زون کے قیام کی ضرورت پر دیا تھا تاکہ خانہ جنگی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شامیوں کو وہیں رکھا جاسکے۔اس عہدے دار کے بہ قول ترکی کے مؤقف میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔

بعض ترک ذرائع نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا ہے کہ ترکی کا امریکا کے ساتھ شامی باغیوں کو تربیت دینے کے لیے سمجھوتا طے پاگیا ہے لیکن انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ان باغیوں کو کہاں ،کیسے اور کیا تربیت دی جائے گی۔

ترکی کی جانب سے یہ بیانات امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ترکی نے امریکا کی قیادت میں اتحادیوں کو عراق اور شام میں داعش کے خلاف حملوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے اور اس نے اعتدال پسند شامی باغیوں کو عسکری تربیت دینے سے بھی اتفاق کیا ہے۔

ادھر داعش کے جنگجو ترکی کی سرحد کے اس پار شام کے کرد اکثریتی شہر کوبانی (عین العرب) پر قبضے کے لیے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے تباہ کن فضائی حملوں کے باوجود ستمبر سے پیش قدمی کررہے ہیں لیکن انھیں مقامی کرد جنگجوؤں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

کوبانی میں لڑائی کے نتیجے میں پانچ سو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔اس شہر اور اس کے نواحی دیہات سے دولاکھ سے زیادہ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر ترکی کے سرحدی علاقے کی جانب چلے گئے ہیں۔اقوام متحدہ کے حکام کوبانی پر داعش کے قبضے کی صورت میں کردوں کے قتل عام کے خدشے کا اظہار کررہے ہیں جبکہ ترکی میں مقیم مقامی اور شامی کرد کوبانی میں محصور افراد کو فوجی امداد مہیا کرنے کے لیے مظاہرے کررہے ہیں اور وہ ترک حکومت سے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔