.

مشرق وسطیٰ میں لارنس آف عربیہ جدید سے ہوشیار

خطے میں جدید دور کے نئے رضا کار لارنس آچکے ہیں:ترک صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے مشرق وسطیٰ میں جدید دور کے لارنس آف عربیاؤں کے بارے میں خبردار کیا ہے جو ان کے بہ قول خطے میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

انھوں نے سوموار کو استنبول یونیورسٹی سے براہ راست نشر کی گئی تقریر میں پہلی عالمی جنگ کے دوران سلطنت عثمانیہ کے خلاف عربوں میں بغاوت کا بیج بونے والے برطانوی جاسوس ٹی ای لارنس کا بطور خاص حوالہ دیا ہے جس نے عربی لباس میں ملبوس ہوکر لارنس آف عربیہ کا روپ دھار رکھا تھا اور اس نے گاؤں گاؤں، قریہ قریہ گھوم کرعربوں کو ترکوں کے خلاف آمادۂ بغاوت کردیا تھا۔

برطانیہ اور بہت سے عرب اس جاسوس کو ایک ہیرو کا درجہ دیتے ہیں لیکن ترک اسے مسلمانوں میں نفرت کا بیج بونے والے ایک گھناؤنے کردار کے طور پر جانتے ہیں۔طیب ایردوآن نے اس کردار کو مشرق وسطیٰ کے امور میں غیرملکی مداخلت کا استعارہ قراردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''لارنس ایک برطانوی جاسوس تھا جس نے ایک عرب کا روپ دھار رکھا تھا۔اب جدید دور کے نئے رضا کار لارنس آگئے ہیں جو صحافیوں ،مذہبی شخصیات ،لکھاریوں اور دہشت گردوں کے روپ میں آرہے ہیں۔اب دنیا کو بتانا ہماری ذمے داری ہے کہ جو لوگ جدید دور کے لارنس آف عربیہ بن کر آرہے ہیں،انھیں ایک دہشت گرد تنظیم نے بے وقوف بنا لیا ہے''۔

انھوں نے کسی خاص تنظیم کا نام نہیں تو لیا اور نہ یہ واضح ہے کہ ان کا اشارہ کس جانب تھا۔البتہ ان کا ہدف وہ بیرونی قوتیں تھیں جو ترکی اور مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہیں۔

ترک صدر نے اپنی تقریر میں کردوں کے جنگجو گروپ کردستان ورکرز پارٹی اور اپنے سابق اتحادی اور اب مخالف دینی شخصیت امریکا میں جلا وطن فتح اللہ گولن کو ہدف تنقید بنایا ہے اور کہا ہے کہ وہ خود کو پریس کی آزادی اور آزادی کی جنگ یا جہاد کے نعروں کے پیچھے چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔

یادرہےکہ برطانیہ کے جاسوس افسر ٹی ای لارنس المعروف لارنس آف عربیہ نے پہلی عالمی جنگ کے زمانے میں عربوں کو سلطنت عثمانیہ کی فوجوں کے خلاف گوریلا مزاحمتی جنگ کے لیے منظم کرنے میں مدد دی تھی اور عرب لیڈروں اور برطانوی فوجوں کے درمیان ایک رابطہ افسر کے طور پر کام کرتا رہا تھا۔

وہ 1935ء میں موٹر سائیکل کے ایک حادثے میں ہلاک ہوگیا تھا۔اس کے کردار پر 1962ء میں فلم بنائی گئی تھی۔اس فلم کے ہدایت کار ڈیوڈ لین تھے اور اس میں لارنس کا کردار پیٹر او ٹول نے ادا کیا تھا۔برطانوی اس کو افسانوی کردار سمجھتے ہیں اور ہیرو کا درجہ دیتے ہیں۔

رجب طیب ایردوآن نے اس تاریخی گھناؤنے کردار کا ذکر ایسے وقت میں کیا ہے جب دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں کی عراق اور شام میں حالیہ مہینوں کے دوران پیش قدمی کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کا استحکام خطرات سے دوچار ہوچکا ہے اور ترکی علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''اس خطے میں ہر تنازعے کا ایک صدی قبل ناک نقشہ بُنا گیا تھا۔تب پہلی عالمی جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ کی سرحدوں کا نئے سرے سے تعین کیا گیا تھا۔اب یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم اس کھیل کو روکیں''۔