.

یمن: خالد بحاح نئے وزیر اعظم نامزد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے سابق وزیر تیل اور اقوام متحدہ میں سابق سفیر خالد بحاح کو نیا وزیر اعظم نامزد کیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق صدر منصور ہادی نے انچاس سالہ خالد بحاح کو مختلف جماعتوں کے مشیروں کے ساتھ مشاورت کے بعد نامزد کیا ہے اور انھیں نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔قبل ازیں گذشتہ ہفتے ان کے نامزد وزیر اعظم احمد عواد بن مبارک نے شیعہ حوثی باغیوں کی جانب سے شدید مخالفت کے بعد حکومت بنانے سے معذرت کر لی تھی۔

مسلح حوثی باغیوں نے 21 ستمبر سے دارالحکومت صنعا میں اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے اور وہ نئی حکومت میں اپنا اثر ورسوخ چاہتے ہیں۔حوثیوں کے سیاسی شعبے کے ایک رکن عبدالملک العجری کا کہنا ہے کہ ''ہمارے خیال میں بحاح وزارت عظمیٰ کے لیے ایک درست انتخاب ہیں۔ان کی نامزدگی سے ملک کو درپیش مسائل اور مشکلات پر قابو پانے میں مدد ملے گی''۔

خالد بحاح بھارت کی پونے یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔وہ اس سے قبل یمن کے وزیرتیل کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور اقوام متحدہ میں یمن کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔

انھیں حوثیوں اور ملک کی دوسری بڑی جماعتوں کے درمیان گذشتہ ماہ طے پائے شراکت اقتدار کے معاہدے کے تحت نامزد کیا گیا ہے۔ اس معاہدے میں حوثیوں اور ایک علاحدگی پسند گروپ کی نئی قومی حکومت میں شمولیت سے اتفاق کیا گیا تھا۔

ہزاروں حوثی باغی گذشتہ ماہ صنعا میں فوجی دستوں کو خونریز جھڑپوں میں شکست دینے کے بعد سے قابض ہیں۔ اب وہ دارالحکومت میں تمام روزمرہ کاروبار زندگی کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ وہ نئی قومی حکومت کے قیام تک شہر کو خالی کرنے سے انکار کرچکے ہیں۔تاہم امریکا ،مغربی اور خلیجی ممالک اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ یمن میں عدم استحکام سے القاعدہ مضبوط ہو سکتی ہے۔