.

الجزائری پولیس کا دوسرے روز بھی دھرنا جاری

پولیس سربراہ کو ہٹانے اور حالات کار بہتر بنانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے سیکڑوں پولیس اہلکاروں کا دارالحکومت الجزائر میں اپنے مطالبات کے حق میں دوسرے روز بھی سرکاری دفاتر کے باہر دھرنا جاری ہے۔

قریباً پانچ سو پولیس افسروں اور اہلکاروں نے حکومت کے مرکزی دفاتر کی عمارت کے داخلی دروازے کے سامنے منگل سے پڑاؤ ڈال رکھا ہے۔وہ پولیس سربراہ سے مستعفی ہونے،صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ سے مذاکرات اور اپنے لیے بہتر حالات کار کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انھیں کسی وقفے کے بغیر اڑتالیس ،اڑتالیس گھنٹے اور بہت زیادہ دباؤ میں کام کرنا پڑتا ہے۔

الجزائر میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار کم ہی سڑکوں پر آکر احتجاج کرتے ہیں۔البتہ روزگار کے مواقع،تن خواہوں اور مکانوں کی عدم دستیابی پر عام شہری اور دوسرے سرکاری ملازمین حکومت کے خلاف مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔

الجزائر میں مظاہرے جنوبی شہر غرداية میں عربوں اور بربروں کے درمیان جھڑپوں میں بعض پولیس افسروں کے زخمی ہونے کے بعد شروع ہوئے تھے۔ان دونوں نسلی گروہوں کے درمیان سوموار کو لڑائی میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے اور مظاہرین نے متعدد دکانوں کو نذر آتش کردیا تھا۔

غرداية دارالحکومت الجزائر سے چھے سو کلومیٹر دور واقع ہے اور اس شہر میں عرب اور بربر نسل کے لوگ آباد ہیں۔اس علاقے میں بالعموم روزگار ،مکانوں اور دوسرے مسائل کی وجہ سے تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ گذشتہ سال اسی علاقے میں دونوں گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔