.

بن غازی میں جھڑپیں ، 12 افراد ہلاک

اسلامی جنگجوؤں کے مقابلے میں فوج کی پیش قدمی کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں سابق میجر جنرل خلیفہ حفتر کی وفادار ملیشیا اور اسلامی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں بارہ افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔

لیبیا میں العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ جنرل حفتر کی وفادار فورسز بن غازی میں مشرقی اور جنوبی جانب سے داخل ہوگئی ہیں اور انھوں نے انصارالشریعہ کے جنگجوؤں سے لڑائی کے بعد ایک اہم فوجی کیمپ کا قبضہ واپس لے لیا ہے۔

لیبی فوج کے بھگوڑے میجر جنرل خلیفہ حفتر نے منگل کی شب ایک نشری تقریر میں بن غازی کو اسلامی جنگجوؤں کے محاصرے سے آزاد کرانے کا اعلان کیا تھا۔اس شہر کا''17 فروری شہداء بریگیڈ'' نامی ملیشیا سمیت اسلامی جنگجوؤں نے محاصرہ کررکھا ہے۔

قبل ازیں جنرل حفتر کے ایک ترجمان محمد الحجازی نے بن غازی کے مکین نوجوانوں پر زوردیا تھا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کو محفوظ بنائیں اور ان میں اسلامی جنگجوؤں کو گھسنے نہ دیں۔اس ترجمان کا کہنا تھا کہ جنرل حفتر کی وفادار فوجی بدھ کو شہر میں داخل ہوں گے۔

لیبی وزیراعظم عبداللہ الثنی نے متحدہ عرب امارات سے نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل سکائی نیوز العربیہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی ملیشیاؤں پر مشتمل ''مجلس شوریٰ'' کے جنگجو راہِ فرار اختیار کررہے ہیں اور بن غازی کا علاقہ اب محفوظ ہے''۔

ان کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔تاہم رائیٹرز کے ایک رپورٹر نے فوجی کیمپ کے علاقے سے فائرنگ کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ وہاں ابھی لڑائی جاری ہے۔انصارالشریعہ کے جنگجوؤں نے سرکاری فوج کے کنٹرول میں ایک ٹینک بٹالین کے کیمپ پر حملہ کیا تھا۔علاقے کے مکینوں کے مطابق اس حملے کے بعد جنرل حفتر کے زیر قیادت فورسز کے جنگی طیاروں نے اسلامی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی۔