.

شامی مہاجرین کوبانی جا سکتے ہیں: اوغلو

داعش سے لڑائی کے لیے ترکوں کو سرحد پار جانے کی اجازت نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ان کا ملک صرف شامی مہاجرین کوسرحد عبور کرنے اور کوبانی میں داعش کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے کے لیے جانے کی اجازت دے گا۔

احمد داؤد اوغلو نے بدھ کو ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ شام سے آنے والے لوگ واپس جا سکتے ہیں اور کوبانی میں جاری لڑائی میں شریک ہوسکتے ہیں لیکن ترکوں یا دوسرے ممالک کے شہریوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

کوبانی میں گذشتہ تین ہفتوں سے داعش کے جنگجوؤں اور کردملیشیا کے درمیان خونریز لڑائی ہورہی ہے۔داعش نے اس کے قریباً پچاس فی صد حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے لیکن کرد جنگجو ان کی سخت مزاحمت کررہے ہیں۔اب ترکی پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سرحد کو کھول دے اور کرد جنگجوؤں کی حمایت میں لڑنے کے لیے ترک کردوں کو سرحد پار جانے کی اجازت دے۔

لیکن وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے یہ دعویٰ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ کوبانی میں بحران ترکی کی جانب سے سرحد نہ کھولنے کی وجہ سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''ہم ترک شہریوں کو شام جانے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں کیونکہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ وہ شام میں جاری تنازعے کا حصہ بنیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہم شامی علاقے میں غیر قانونی طور پر جانے والوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ترک شہریوں کا اس طرح سرحد عبور کرنا ایک دستوری ریاست میں قانون کے خلاف ہے۔البتہ شامی مہاجرین ہماری اجازت سے نہ تو یہاں آئے تھے اور انھیں واپس جانے کے لیے بھی ہماری اجازت کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ واپس نہیں جانا چاہتے ہیں''۔

داؤاد اوغلو کا یہ بیان فرانسیسی صدر فرانسو اولاند کے اس بیان کے بعد کے سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ترکی کو کوبانی میں کمک پہنچانے کی اجازت دینے کے لیے اپنی سرحد مکمل طور پر کھول دینی چاہیے۔ شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے بھی گذشتہ ہفتے ترکی پر زور دیا تھا کہ وہ رضاکاروں کو اپنے آلات سمیت کوبانی میں داخل ہونے کی اجازت دے تا کہ وہ اس کا دفاع کرسکیں۔

ترک وزیر اعظم نے ان دونوں کے اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ پیرس میں بیٹھ کر اس طرح کی بات کرنا بہت آسان ہے۔انھوں نے فرانسیسی صدر سے سوال کیا ہے۔کیا وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ برسرزمین کیا ہورہا ہے؟انھوں نے بتایا کہ ترکی اس وقت کوبانی کے علاقے سے تعلق رکھنے والے قریباً دو لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے۔