.

ڈچ شہریوں کے کردوں کی مدد کو جانے کی تصدیق

کردوں کی مدد کو جانا قانونا جرم نہیں ہے: پبلک پراسیکیوٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہالینڈ کے پبلک پراسیکیوٹر نے داعش کے خلاف کرد جنگجووں کی مدد کو جانے والے اپنے ملک کے موٹر بائیکرز کے اقدام کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش مخالف لڑائی میں حصہ لینا کوئی جرم نہیں ہے۔

پبلک پراسیکیوٹر کے ترجمان وِم ڈی بروئن نے ایک عالمی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا '' ماضی میں غیر ملکی عسکریت میں شامل ہونا جرم تھا لیکن اب یہ جرم نہیں رہا ہے، نہ قانوں میں اس کی ممانعت ہے۔''

ترجمان نے جرم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ''اب صرف یہ جرم ہے کہ آپ ہالینڈ کے خلاف لڑائی کا حصہ بنیں۔''

اس سے پہلے میڈیا میں یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ہالینڈ کے بائیکرز کے گروپ '' نو سرنڈر گینگ '' کے ارکان شمالی عراق میں داعش کے خلاف کردوں کی لڑائی کا حصہ بن گئے ہیں۔

اس گینگ کے سرغنہ کلاس اوٹو نے ایک قومی خبری نشریات کے ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا '' موصل جانے والے تین گینگ ممبر ہالینڈ کے شہروں ایمسٹرڈیم، روٹرڈیم اور بریڈا سے تعلق رکھتے ہیں۔'' اس حوالے سے عراق میں سوشل میڈیا پر ان میں سے ایک گینگ ممبر کو کلاشنکوف پکڑے کرد کمانڈر کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔

وم ڈی بروئن نے اس بارے میں کہا '' یہ ویڈیو فوٹیج بظاہر کردوں نے اس لیے دکھائی تھی کہ مغربی ممالک کے لوگ ان کے شانہ بشانہ داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اس فوٹیج میں یہ مغربی شہری کہہ رہا ہے ''کرد ایک طویل عرصے تک زیر دباو رہے ہیں۔ ''

ڈی بروئن نے کہا ''دوسری جانب بہت سے مغربی ملکوں بشمول ہالینڈ کے شہری داعش کے عسکریت پسندوں کی مدد کے لیے جانے کی کوشش کر ر ہے ہیں ۔ تاہم ان جہادیوں کے پاسپورٹ ضبط کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں کیونکہ فرق یہ ہے کہ داعش کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیا گیا ہے۔'' بقول وم ڈی بروئن کے '' اس کا صاف مطلب ہے کہ داعش میں شامل ہونے کی تیاری کرنا بھی ایک قابل سزا جرم ہے۔''

ڈی بروئن نے کہا چونکہ کردستان ورکر پارٹی کو ترکی اور عالمی برادری کے کے بعض دوسرے ارکان نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے اس لیے میں بھی ہالیند کے لوگ شامل نہیں ہو سکتے ہیں، لیکن چونکہ یہ معاملہ بہت دوری پر ہو رہا ہے اس لیے اسے ثابت کرنا آسان نہیں ہے۔ ''