.

ترک ائیرلائنز کے انجنوں پرعربی تحریر کی تحقیقات

عربی میں دعائیہ الفاظ پر فضائی کمپنی کے عملے میں خوف وہراس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک ائیرلائنز نے اپنے بعض طیاروں کے انجنوں پر عربی الفاظ لکھے جانے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔اس عربی عبارت سے فضائی کمپنی کے عملے میں عدم اطمینانی کی صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔

استنبول کے اتاترک ائیرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق اس واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر سکیورٹی خدشات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ کسی بھی سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج سے یہ پتا نہیں چل سکا ہے کہ کس نے عربی میں الفاظ لکھے تھے۔

استنبول کے ہوائی اڈے پر اتوار کو پہلی مرتبہ ایک جیٹ کے انجن پر عربی الفاظ لکھے ہونے کا پتا چلا تھا لیکن ترکی کی قومی فضائی کمپنی کا عملہ ان دعائیہ الفاظ کو پڑھنے سے قاصر رہا تھا جس کی وجہ سے انھیں یہ تشویش لاحق ہوگئی تھی کہ کہیں یہ الفاظ عراق اور شام میں برسرپیکار دولت اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں نے تو نہیں لکھ دیے تھے۔

اس کے بعد مختلف مقامات سے آنے والے تین اور طیاروں کے انجنوں پر بھی اسی طرح کے الفاظ لکھے پائے گئے تھے۔تاہم ترک کمپنی کے ایک ترجمان نے بدھ کو ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ یہ الفاظ دراصل ایک عربی دعا کے تھے۔ان کا کسی دہشت گرد تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ان سے ہماری پروازوں کو کوئی خطرہ لاحق تھا۔اب اس معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

تاہم بعض مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ سیکڑوں غیرملکی جنگجو استنبول کے ہوائی اڈے پر آ کر اترتے ہیں اور وہاں سے شام اور عراق کا رُخ کرتے ہیں۔اس لیے یہ جنگجو ترکی میں مغربی سیاحوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں یا وہ دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔

ترکی دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی جانب سے جوابی حملوں کے خدشے کے پیش نظر ہی امریکا کی قیادت میں داعش مخالف جنگ میں ابھی تک شامل نہیں ہوا ہے۔وہ فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کرنے سے ہچکچا رہا ہے اور اس نے امریکا کو عراق اور شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دی ہے۔