.

'' بنغازی کو دہشت گردوں سے پاک کردیں گے''

آپریشن 'الکرامہ' کے کمانڈر ریٹائرڈ میجر جنرل خلیفہ حفتر کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل خلیفہ حفتر نے کہا ہے کہ ان کی حامی فوج ملک کے مشرقی شہر بنغازی کو 'دہشت گردوں' سے آزاد کرانے کے لیے تیار ہے۔ دہشت گردوں سے ان کی مراد انصار الشریعہ نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے اسلامی جنگجو تھے۔

بدھ کے روز بنغازی کے مختلف علاقے زوردار دھماکوں سے گونج اٹھے جبکہ شہر کی متعدد کالونیوں سے وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی آتی رہیں۔

ادھر مختلف ذرائع نے یکے بعد دیگرے گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں میں 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

جنرل حفتر کے حامی ٹی وی چینلز سے نشر ہونے والے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ "آج میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ 'الکرامہ' آپریشن کرنے والی فوج کے جوان بنغازی کی دہشت گردوں سے آزادی کا اہم مشن انجام دینے کو تیار ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ "بنغازی کی آزادی اور استحکام دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اہم مرحلہ ہے کیونکہ اس سے پورے ملک کو دہشت گردوں سے آزاد کرانے کی فضا ہموار ہو گی جنہوں نے اپنی کارروائیوں سے ملک کی سلامتی، وحدت اور استحکام کو تاراج کر رکھا ہے۔"

"آنے والا وقت اور دن لیبی عوام کے لئے مشکل ہوں، لیکن ان سے گزر کر ہی ہم لیبیا کو امن و امان واپس لوٹا سکتے ہیں۔"

لیبی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ "معرکہ ختم ہوتے ہی فوج فوری طور پر شہر میں زندگی معمول پر لائے گی۔ اس مقصد کے لئے سکول، کالج، جامعات، ہوائی اڈے، بندرگاہیں اور مختلف حکومتی دفاتر کو کھول کر زندگی کو معمول پر لایا جائے گا۔ ہمیں دشمن کی آنکھ میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ہو گی اور ایک آزاد و مستحکم ملک بنانا ہو گا۔"

انہوں نے واضح کیا کہ وہ بنغازی کو 'آزاد' کرا کے فوجی سروس چھوڑ دیں گے۔ الکرامہ آپریشن میں شامل افسر و جوان حال ہی میں تشکیل پانے والی فوج کی جنرل کمان کے تحت واپس اپنی بیرکوں میں چلے جائیں گے۔

یاد رہے کہ بنغازی شہر سنہ دو ہزار گیارہ میں کرنل معمر قذافی کے خلاف وسیع تر خونی انقلاب کے بعد قتل، اغواء اور فوج، پولیس، صحافیوں، دینی رہنماوں اور انسانی حقوق کے رضاکاروں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔

لیبی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل خلیفہ حفتر اس سال 16 مئی سے 'الکرامہ' فوجی آپریشن کی قیادت کر رہے جو ان کے دعوے کے مطابق دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔