.

بنغازی: خونریز لڑائی جاری، 18 افراد کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں سابق میجر جنرل خلیفہ حفتر کی وفادار ملیشیا اور اسلامی جنگجوؤں پر مشتمل گروپ انصارالشریعہ کے درمیان جمعہ کو مسلسل تیسرے روز جھڑپیں جاری رہی ہیں اور ان میں مزید اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ بن غازی یونیورسٹی کے آس پاس متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان خونریز لڑائی ہوئی ہے اور انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف ہرطرح کے ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔شہر کے وسط میں واقع اس علاقے میں انصارالشریعہ کے جنگجوؤں نے پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں۔

شہر کے میڈیکل سنٹر کے حکام کے مطابق مرنے والوں میں زیادہ تر فوجی اور عام شہری ہیں جو لیبی آرمی کے ساتھ مل کر اسلامی جنگجوؤں کے خلاف لڑ رہے تھے۔ ریٹائرڈ میجر جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میں فورسز نے بدھ کے روز بن غازی کو اسلامی جنگجوؤں سے آزاد کرانے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔انھیں سرکاری فوج کے یونٹوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔لڑائی میں اب تک پچاس سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

درایں اثناء دارالحکومت طرابلس پر قابض اسلامی ملیشیاؤں کے مقرر کردہ وزیراعظم عمر الحسی نے بن غازی میں لڑنے والے جنگجوؤں کو انقلاب کے بہادر شیر قرار دیا ہے۔ ان کی جانب سے اسلامی ملیشیاؤں کے حق میں یہ پہلا بیان جاری کیا گیا ہے۔

لیبیا کی انجمن ہلال احمر نے جمعرات کو بن غازی میں متحارب جنگجو گروپوں سے جنگ بندی کی اپیل کی تھی تاکہ گلیوں اور بازاروں میں لڑائی کے نتیجے میں پھنس کر رہ جانے والے خاندانوں کو نکالا جاسکے۔

لیبیا کے دوسرے شہروں میں بھی مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کے تحت فورسز اور اسلامی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جن میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران حکام کے مطابق قریباً ایک سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ طرابلس اور بن غازی میں لڑائی کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔