.

جیش الحر کوبانی پر جزوی کنٹرول میں کامیاب

داعش کے فائر کردہ مارٹر گولے ترکی کے علاقے میں جا گرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی جیش الحر کی 'فجر الحریہ بٹالین' کے ذیلی 'بریگیڈ شمس الشمال' نے ترکی کی سرحد پر واقع کرد اکثریتی شہر عین العرب [کوبانی] کی انڈسٹریل اسٹیٹ کے وسیع علاقے پر کںٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اپنے اس دعوے کی صداقت ثابت کرنے کے لیے جیش الحر نے "یو ٹیوب" پر ایک ویڈیو بھی اپ لوڈ کی ہے۔

ایک ملتی جلتی کارروائی میں امریکی قیادت میں داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے ہفتے کے روز محاصرہ زدہ کوبانی شہر پر داعش کے متعدد مراکز پر سات مرتبہ بمباری کی۔ یہ فضائی حملے داعش کے کوبانی کے وسط کی شدید گولا باری کے بعد کیے گئے۔ داعش جنگجووں کی گولا باری سے ترکی کی سرحد کے اندر متعدد علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ وسط کوبانی پر اتحادی فضائی حملوں کے علی الرغم داعش کی گولا باری کا سلسلہ بھی جاری رہا جس کے نتیجے میں متعدد مارٹر گولے ترکی کے اندر گرے جبکہ بعض ترکی کی موکبینار سرحدی چوکی کے اندر گرے۔

کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹ کی ایک رضاکار خاتون نے بتایا کہ داعش کے دوبارہ شروع کیے جانے والے حملوں کا مقصد شہر کو ترکی سے ملانے والے آخر روٹ پر ٹریفک کو متاثر کرنا ہے تاکہ کوبانی کو مکمل طور پر الگ تھلگ کر دیا جائے۔

خبر رساں ایجنسی 'رائیٹرز' سے بات کرتے ہوئے خاتون رضاکار نے بتایا کہ "وہ [داعش] کوبانی کا رابطہ دنیا سے کاٹنا چاہتے ہیں۔ ترکی جنگجووں یا اسلحہ شامی علاقے میں لانے کی اجازت نہیں دے رہا تاہم وہ موکبینار میں انسانی بنیادوں پر امداد بھیج رہا ہے۔ داعش جنگجو موکبینار گیٹ کو تباہ کر کے کوبانی کا ہر لحاظ سے محاصرہ مکمل کرنا چاہتے ہیں۔"

اپنے تیئں شامی آبزرویٹری نے اعلان کیا ہے کہ 'داعش' نے گذشتہ روز ترکی کی سرحد کے قریب تقریباً 21 مارٹر گولے فائر کئے۔ تاہم دوسری جانب کوبانی سے تعلق رکھنے والے صحافی عبدالرحمان جوک نے ٹیلی فون پر غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہفتے کے روز ہونے والی لڑائی دو دنوں کے دوران شدید ترین جنگ تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گولا باری کا سلسلہ رات گئے تیز ہوا اور داعش جنگجو تقریبا ہر دو منٹ بعد راکٹ باری کرتے رہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ داعش موکبینار سرحدی گیٹ کی جانب جانے والے شہر کے مشرقی راستے کو نشانہ بناتے رہے ہیں تاکہ وہ کوبانی کو الگ تھلگ کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد یقینی بنا سکیں۔