.

حوثی باغیوں کا یمن کے وسطی شہر سے انخلاء

القاعدہ اور باغیوں میں لڑائی، 40 افراد ہلاک، متعدد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن سے العربیہ کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ اتوار کے روز حکومت مخالف حوثی باغی ایب گورنری سے انخلاء شروع کر دیں گے۔ اس سے قبل القاعدہ کے حملوں کے پیش نظر انہی باغیوں نے البیضاء گورنری کے اہم شہر رَدَاع سے انخلاء شروع کر دیا تھا جبکہ یریم کے علاقے میں القاعدہ اور حوثیوں کے درمیان کل ہونے والے شدید لڑائی میں مرنے والوں کی تعداد 40 تک پہنچ گئی ہے۔

حوثی باغیوں نے البیضاء کے شہر رَدَاع میں داخلے کے 24 گھنٹوں بعد ہی وہاں سے انخلاء شروع کر دیا۔ شہر میں داخلے کے وقت باغیوں کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ایک رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں اور القاعدہ کے جنگجووں کے درمیان پرتشدد کارروائیوں کے بعد در انداز حوثی القاعدہ کا اہم الیبضاء میں اہم ٹھکانہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

یمن کے وسطی شہر رَدَاع میں القاعدہ جنگجووں نے مسلح حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر 12 حملے کیے جن میں ہلکے ہتھیاروں سے لیکر بھاری ہر قسم کے ہتھیار استعمال کئے گئے۔ بعض حملوں میں بارود سے بھری گاڑیاں بھی دھماکوں کے لیے استعمال کی گئیں جس کے نتیجے میں حوثی باغیوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

اسی ضمن میں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اب شہر میں حوثیوں کے لگائے گئے ناکوں میں کمی واقع ہو گئی ہے اور اب ان ناکوں کا کوئی اثر نہیں رہا۔

رَدَاع شہر کے باسیوں کے مطابق علاقے کی فضائی حدود میں بغیر پائیلٹ جاسوسی طیاروں کی پروازیں جاری ہیں جو عمومی طور پر علاقے میں موجود القاعدہ جنگجووں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

ادھر یمن کے جنوب مغربی علاقے ایب میں حوثی باغیوں اور قبائلیوں کے درمیان دوبارہ مسلح جھڑپیں شروع ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں جن میں دونوں طرف متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ایب گورنری کے سیکیورٹی چیف بریگیڈئر فؤاد العطاب نے اپنے گھر پر حوثی باغیوں کے حملے کے بعد عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔