.

300 ہسپانوی فوجی عراقی اہلکاروں کو تربیت دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سپین، عراقی فوج کو داعش کے خلاف جنگ کی تربیت دینے کے لئے اس سال کے آخر تک اپنے 300 فوجی عراق بھیجے گا۔ رواں ہفتہ ہسپانوی پارلیمنٹ اپنے فوجیوں کی عراق روانگی کی منظوری دے گی۔

ان خیالات کا اظہار سپین کے وزیر دفاع پیڈرو مورینس نے اپنے امریکی ہم منصب چک ہیگل سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ مورینس کا کہنا تھا کہ ہسپانوی فوج، عراقی سیکیورٹی اہلکاروں کو اسپیشل ٹاسک سرانجام دینے کی تربیت کے ساتھ ساتھ بارودی سرنگیں صاف کرنے اور دھماکا خیز مواد کو ڈسپوز آف کرنے کی تربیت فراہم کرے گی۔

پیڈرو مورینس نے ایک سوال کے جواب میں بتایا ہسپانوی دستے سال کے آخر تک عراق روانہ ہو جائیں گے کیونکہ اس آپریشن اور تربیت کی ضرورت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنی صلاحیت کا جائزہ لیں اور اس کی روشنی میں پیش رفت کریں۔

ہسپانوی وزیر دفاع نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ ان کا ملک کسی طور پر بھی امریکی قیادت میں شام کے اندر سرگرم داعش کی بیخ کنی کے لئے جاری آپریشن کا حصہ نہیں بنے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ میڈرڈ امریکی فوجیوں کو اپنے ملک کے جنوبی حصے میں واقع مورون اور روتا ائر بیسز کو عراق میں آپریشن کی خاطر استعمال کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔