.

برطانیہ میں "اخوان" کا تعاقب، جماعت پر پابندی کی تیاریاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالم عرب میں سرگرم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے مصر میں زیرِ عتاب آنے کے بعد اب برطانیہ جیسے جمہوری ملک میں‌بھی اخوان المسلمون کا تعاقب شروع کر دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق برطانوی حکومت نے گذشتہ اپریل مصر سے فرار کے بعد لندن اور دوسرے شہروں میں پناہ حاصل کرنے والے اخوانی کارکنوں سے اس امر کی تفتیش جاری رکھی ہوئی ہے کہ اخوان المسلمون کا عرب ممالک میں جاری دہشت گردی کی تحریک سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

اخبار "سنڈے ٹیلیگراف" نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ ‌کیا ہے کہ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت پیش آئند ایام میں اخوان المسلمون کے رہ نماؤں اور کارکنوں کے خلاف ایک نیا کریک ڈؤن شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں اخوان المسلمون کے زیر انتظام چلنے والے 60 فلاحی اداروں اور ٹیلی ویژن چینلوں کے بارے میں‌ بھی مواد جمع کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کی اخوان المسلمون کی حمایت میں کام کرنے والے ان فلاحی اور نشریاتی اداروں کا عرب ممالک میں جاری دہشت گردی کی تحریکوں کے ساتھ تعلق کس نوعیت کا ہے؟

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے گذشتہ اپریل میں اپنے ملک میں مقیم اخوان قیادت اور دیگر کارکنوں کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ نیز اخوان المسلمون کے فکر وفلسفے اور تکفیری جہادی گروپوں کے نظریات میں کس حد تک ہم آہنگی اور فرق ہے؟۔ اخوان المسلمون کی حمایت میں نشریات پیش کرنے والے ٹیلی ویژن چینل برطانوی نوجوانوں کے افکارو خیالات پر کس طرح کے اثرات مرتب کر رہے ہیں؟ گو کہ گذشتہ اپریل اور مئی سے جاری تحقیقات کے باوجود اخوان المسلمون کی سرگرمیوں پرپابندی تو نہیں لگائی گئی البتہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جماعت کا گھیرا مسلسل تنگ کیا جا رہا ہے۔

اخوان کے 60 فلاحی اداروں کا تعاقب

برطانوی اخبار نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ سیکیورٹی حکام نے اخوان المسلمون سے وابستہ ان 60 فلاحی تنظیموں، تحقیقی مراکز، اخوان کے تھینک ٹینکس اور ٹیلی ویژن چینلز کے بارے میں معلومات جمع کرنا شروع کر دی ہیں تاکہ ان کی روشن میں ان اداروں کے خلاف غیر معمولی کریک ڈاؤن کا آغاز کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق اب تک کی تحقیقات سے 60 ایسے اداروں کی نشاندہی ہوئی ہے جو علانیہ اور خفیہ طور برطانیہ میں اخٌوان الملسمون ہی کی حمایت اور مدد کے لیے سرگرم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور اس سلسلے میں دوسرے ممالک میں بھی تحقیقاتی ٹیمیں بھیجی جائیں گی جو یہ بات ثابت کریں ‌گی کہ خلیجی ریاست قطر، لندن اور استنبول میں اخوان کے اہم مرکز موجود ہیں اور ان کا ایک دوسرے سے مسلسل رابطہ بھی قائم ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت قطری عالم دین علامہ یوسف القرضاوی کی سرگرمیوں کو بھی شبے کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ علامہ القرضاوی کو اخوان المسلمون کا روحانی پیشوا سمجھا جاتا ہے۔ وہ پچھلے 30 سال سے قطر میں مقیم ہیں اور سنہ 2008ء کے بعد ان کے برطانیہ داخلے پر بھی پابندی ہے۔

اخبار کے مطابق لندن حکام اخوان کے خلاف تحقیقات کے دوران اس بات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کریں گے کہ آیا اس وقت عرب اور دوسرے ممالک کی کون کون سی حکومتیں اخوان المسلمون کی حمایت کر رہی ہیں؟