.

حوثی شدت پسندوں کے ہاتھوں یمنیوں کا قتل عام جاری

قبائلی سردار کے پانچ اہل خانہ قتل، گھر مسمار کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حکومت کے خلاف سرگرم حوثی شدت پسندوں نے عام شہریوں کو بھی نہایت بے دردی سے گولیوں کا نشانہ بنانے کا ظالمانہ طریقہ اختیار بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔

گذشتہ روز یمن کی 'اِیب' گورنری میں مسلح حوثیوں نے ایک مقامی قبائلی رہ نُما علی بدیر کے گھر پر دھاوا بولا اور متعدد افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ قتل ہونے والوں میں ایک نو عمر لڑکا بھی شامل ہے جس کی میت گھر سے دور پھینک کر اس کے نیچے دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا تاکہ میت کو اٹھاتے ہی وہ زور دار دھماکے سے پھٹ جائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق الشیخ علی بدیر 'ایب' کی سٹی کونسل کی مجلس شوریٰ برائے اصلاح کے اہم رکن ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مقتول بچہ حوثیوں کے حملے کے دوران لاپتا ہو گیا تھا۔ بعد ازاں فیس بک پر اس کی مردہ حالت میں تصویر اور اسامہ محمد عبداللہ نام سے اس کی شناخت کی گئی اور ساتھ ہی بتایا گیا کہ اس کی میت کے نیچے دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا ہے۔ البتہ حوثیوں اور علی بدیر خاندان میں مذاکرات کے بعد بچے کی میت کے نیچے نصب دھاکہ خیزا مواد تو ہٹا دیا گیا لیکن میت کے قریب بچے کی والدہ اور خالہ کے سوا کسی اور فرد کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن کے اہم وسطی علاقے "ایب" میں دو روز قبل حوثیوں اور مقامی شہریوں‌کے درمیان اس وقت تصادم شروع ہوا جب حوثیوں نے الزام عاید کیا کہ الشیخ علی بدیر کے خاندان نے ان کے دو ساتھیوں کو قتل اور تین کو یرغمال بنا لیا ہے۔ اس الزام کے بعد مسلح حوثیوں کی الشیخ علی البدیر اور اس کے بھتیجے کے ساتھ کئی گھنٹے تک لڑائی جاری رہی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق مقامی عمائد نے مسلح فریقین کے درمیان فائر بندی کرائی اور دونوں کو ایک دوسرے کے مقتولین اور یرغمالی واپس کرنے پر راضی کیا۔ حوثیوں نے اس شرط پر فائر بندی کی کہ الشیخ علی بدیر کے مکان کی سیکیورٹی ان کے پرائیویٹ محافظوں کے بجائے ری پبلیکن گارڈز کے سپرد کی جائے۔

معاہدے کے بعد حوثی مقتولین کی میتیں علی بدیر کے مکان کے قریب پھینک کر چلے گئے لیکن نصف گھنٹے کے بعد حوثیوں کے ایک دوسرے مسلح جتھے نے دوبارہ ان کے گھر پر یلغار کرکے متعدد افراد کو قتل اور 10 گاڑیاں تباہ کر دیں۔ علی البدیر اپنے اہل خانہ سمیت گھرسے نکل گئے۔ حوثیوں نے نہ صرف گھر میں لوٹ مار کی بلکہ لڑائی میں بدیر خاندان کے پانچ افراد کو قتل بھی کر دیا۔