.

ایران کا امریکا، برطانیہ اور اسرائیل کے جاسوس گرفتار کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے گذشتہ چند برسوں کے دوران ’’یزد‘‘ کے علاقے سے امریکا، برطانیہ اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں کئی افراد کو حراست میں لیا ہے جنہیں قانون کے مطابق سزائیں دی گئیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی اخبار ’’اعتماد‘‘ نے’’یزد‘‘ کے ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ جاسوسی کے الزام میں پکڑے گئے بعض افراد سرکاری محکموں میں اہم اور حساس عہدوں پر فائز تھے جو کئی دشمن ممالک کے لیے جاسوسی کرتے رہے ہیں۔ ان میں کچھ جاسوس ایرانی انٹیلی جنس اداروں ہی میں ملازمت بھی کرتے تھے۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ دُشمن ممالک کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیے گئے درجنوں ایجنٹوں کے اسرائیلی خفیہ اداروں کے ساتھ روابط کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس نے حراست میں لیے گئے مبینہ جاسوسوں کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیے گئے تمام افراد کے خلاف مقدمات چلائے گئے ہیں۔ ان میں سے بعض ملزمان کو انقلاب عدالتوں سے سزائیں بھی دی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس ایرانی حکام نے دو قیدیوں کو جاسوسی کی پاداش میں پھانسی دے دی تھی۔ ایرانی پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ محمد حیدری نامی ایک جاسوس پر اسرائیل کے خفیہ ادارے ’موساد‘ کے ساتھ روابط اور رقوم کے بدلے اہم راز اسرائیل کو فراہم کرنے کا جرم ثابت ہو گیا تھا۔ پھانسی پانے والے دوسرے ملزم کورش احمدی پر امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے لیے جاسوسی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ایران اسرائیل، امریکا اور یورپی ملکوں پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ تہران کے جوہری پروگرام کی جاسوسی کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیل، ایران کے جوہری سائنسدانوں کے قتل میں بھی ملوث رہا ہے۔