.

سابق یمنی صدر بھی باغیوں کی حمایت میں پیش پیش

علی عبداللہ صالح کے 'تعاون' سے پہلے یہ ‘اعزاز’ ایران کو حاصل تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حمایت یافتہ سیکڑوں ری پبلکین گارڈز اہل تشیع حوثی شدت پسندوں کی وضع قطع اور لباس اختیار کرتے ہوئے حکومت مخالف تحریک میں باغیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

سابق صدر کے سیکڑوں حامی دارالحکومت صنعاء میں سڑکوں پر دیکھے گئے ہیں۔ انہوں نے حوثیوں کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور باغیوں کے مطالبات کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین نے حوثیوں کی طرز کا لباس پہن رکھا تھا اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حمایت میں بھی نعرے لگا رہے تھے۔

خیال رہے کہ یمنی ری پبلیکن گارڈز میں شامل 07 ہزار اہلکاروں کو تنخواہیں براہ راست سابق صدر علی صالح کی جانب سے دی جاتی ہیں۔ سابق صدر سے تنخواہیں وصول کرنے والے اہلکار ویسے تو ان کی سیکیورٹی کے لیے مختص ہیں لیکن سابق صدر انہیں اپنے 'دیگر' مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔

ادھر البیضاء کے علاقے رادع میں اتوار اور پیر کے روز حوثی شدت پسندوں اور القاعدہ جنگجوئوں کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں۔ جن میں 20 سے زائد حوثی ہلاک ہو گئے ہیں۔ جھڑپوں میں فریقین نے ایک دوسرے پر ہلکے اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں کا بھرپور استعمال کیا ہے۔

یمن کے قبائلی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ حوثیوں نے جن اہم قبایلی رہ نمائوں کے قتل کی منصوبہ بندی کی ہے، ان میں قبائلی اتحاد کے ترجمان عنترالذیقانی بھی شامل ہیں۔ الذیقانی کا کہنا ہے کہ حوثی شدت پسندوں نے حال ہی میں صنعا میں پرتشدد کارروائی کرکے 170سرکاری گاڑیوں اور ٹینکوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

ادھرایک دوسرے ذریعے نے ’’العربیہ‘‘ کو بتایا کہ مسلح افواج نے’’اَیب‘‘ گورنری میں یریم کے مقام پر حوثی جنگجوئوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کی تیاری شروع کر دی ہے۔ حوثیوں کے خلاف آپریشن کے لیے افرادی قوت اور اسلحہ’’ایب ‘‘پہنچایا جا رہا ہے۔

صنعاء میں حوثی باغیوں نے ہوائی اڈے کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر جاری دھرنا ختم کردیا ہے تاہم حوثی بندوق بردار اب بھی سڑکوں پر موجود ہیں۔ صنعاء ہوائی اڈے کے قریب حوثی باغیوں نے پچھلے کئی ماہ سے دھرنا دے رکھا تھا۔ دھرنے کا خاتمہ ایک اہم پیش رفت ہے مگر حوثی جنگجوئوں کی شہر میں موجودگی بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔

یمنی شہر البیضاء سے عینی شاہدین نے’’العربیہ‘‘ نیوز چینل کو بتایا کہ جامع کے مقام پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ دھماکوں کے بعد انصار الشریعہ نامی گروپ نے حوثی جنگجوئوں پر حملے بھی کیے ہیں۔ شورش زدہ علاقے’’عنس‘‘ میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کی بھی اطلاعات ہیں۔