.

جنوبی سوڈان جیسا جنسی تشدد کہیں نہیں دیکھا: اقوام متحدہ

"تیس سالوں میں اتنے گھناونے واقعات نہیں ہوئے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے دوران دونوں طرف کے متحارب گروہ بدترین انداز میں خواتین، بچیوں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ خانہ جنگی کے دوران ایک دو سالہ بچے کو بھی جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

مسلح تصادم کے شکار علاقوں میں اقوام متحدہ کی جنسی تشدد کے خلاف متحرک خصوصی نمائندہ نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا'' اپنے تیس سالہ تجربے کے دوران میں نے ایسے ظالمانہ واقعات نہیں دیکھے جو میں نے حالیہ مہینوں کے دوران جنوبی سوڈان میں دیکھے ہیں۔ '' وہ جنوبی سوڈان کے ایک حالیہ دورے کے حوالے سے اپنے مشاہدات کی بنیاد پر بات کر رہی تھیں۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ زینب حوا بینقورا نے جنوبی سوڈان کے قصبے بینتیو کا ذکر کرتے ہوئے کہا '' یہ خانہ جنگی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے، اس علاقے میں بے گھر ہونے والے لوگ نہ صرف بترین عدم تحفظ کا شکار ہونے بلکہ جنسی تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے نے بھی ان کے چہروں پر کرب کو نمایاں کر رکھا ہے۔ ''

واضح رہے 2011 میں آزادی کا اعلان کرنے والے جنوبی سوڈان میں خانہ جنگی کا آغاز پچھلے سال ماہ دسمبر میں ہوا تھا۔ اس سے پہلے صدر سلوا کیر اور ان کے برطرف شدہ نائب اور سیاسی حریف راِئیک ماچر کے درمیان سخت سیاسی کشیدگی رہی جو بعد ازاں خانہ جنگی میں بدل گئی۔

اقوام متحدہ کی نمائندہ کے مطابق انہیں صحت اور انسانی جانیں بچانے کے لیے سرگرم کارکنوں نے جنسی تشدد کی ایسی ایسی دل شکن کہانیاں سنائی کہ الامان، ان میں جبری زیادتی، اغواء، جنسی طور پر غلام بنانے اور زبردستی شادیاں رچانے کے بے شما واقعات ہوئے۔''

انہوں نے کہا '' جن خواتین نے حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی وہ بطور خاص جنسی تشدد سے دو چار ہوئیں، ان میں سے کئی ایسی بھی تھیں جن کے ساتھ جنسی تشدد اس وقت تک جاری رکھا گیا جب تک کہ ان کی موت نہ واقع ہو گئی۔ ''

خصوصی نمائندہ کے مطابق ان شکار بننے والیوں میں شادی شدہ، غیر شادی شدہ، کمسن بچیاں اور کمسن بچے بھی شامل تھے۔ متاثرہ لوگوں میں 74 فیصد کی عمریں 18 سال سے کم ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ''

اس گھناونے جرم کا الزام اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے دونوں طرف کے مسلح لوگوں پر عاید کیا ہے۔ انہوں نے جنوبی سوڈان کے شمالی شہر میں ایک ایسے ریڈیو کا بھی انکشاف کیا جو مردوں کو عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے لیے اپیلیں کرتا اور ابھارتا ہے۔

اپنے دورے کے اختتام پر اقوام متحدہ کی نمائندہ اور جنوبی سوڈان کی حکومت نے ایک یادداشت پر دستخط کیے جس میں جنسی تشدد کے واقعات روکنے کے لیے کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔

پچھلے ماہ اقوام متحدہ نے متحارب فریقوں کے سربراہوں کو لڑائی ختم کر کے باہم مذاکرات کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنے کے لے کہا تھا۔ تاکہ دنیا کی کم عمر ترین افریقی ریاست میں امن آ سکے۔