.

تیونس: پولیس کارروائی میں 6 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں عام انتخابات کے انعقاد سے دو روز قبل سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت کے ایک نواحی علاقے میں ایک مکان میں محصور مشتبہ مسلح افراد کے خلاف کارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں پانچ خواتین سمیت چھے افراد مارے گئے ہیں اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس نے دارالحکومت تیونس کے نواحی علاقے وادی اللیل میں واقع اس مکان کا جمعرات سے محاصرہ کررکھا تھا۔تیونسی وزارت داخلہ کے ترجمان محمد علی العروی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ دہشت گرد تھے۔پولیس کی کارروائی میں زخمی ہونے والے مسلح شخص اور دو بچوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ان میں سے ایک بچی کو سر میں چوٹ لگی ہے لیکن اس کی حالت کے بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا ہے۔ترجمان کے بہ قول دہشت گرد مکان کے باورچی خانے میں چھپے ہوئے تھے۔خصوصی فورسز کے اہلکار جب اس جانب گئے تو خواتین نے باورچی خانے سے باہر آکر ان پر فائرنگ کردی اور جوابی فائرنگ میں وہ ماری گئی ہیں۔

ترجمان نے مردوں اور خواتین دونوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔گذشتہ روز پولیس اور ان مسلح افراد کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔اس کے بعد پولیس نے اس مکان کا محاصرہ کر لیا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کارروائی سے قبل آس پاس کے مکانوں کی گیس اور بجلی منقطع کردی تھی۔

قبل ازیں جمعرات کی صبح پولیس نے دارالحکومت تیونس سے پانچ سو کلومیٹر جنوب میں واقع علاقے قبلی میں
آتشیں رائفلوں سے مسلح دوافراد کو گرفتار کر لیا تھا اور ان کے ساتھ جھڑپ کے دوران ایک راہگیر مارا گیا تھا۔ ترجمان علی العروی کا کہنا ہے کہ گرفتار مسلح افراد دہشت گردی کے حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

تیونس میں اتوار کو پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ اسلامی انتہا پسند پولنگ کے دوران گڑ بڑ پھیلا سکتے ہیں۔پولنگ سے قبل ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جارہے ہیں اور پولنگ مراکز پر فورسز کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں۔

تیونسی وزیرداخلہ لطفی بن جدو نے پولنگ کے دوران امن وامان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے ملک کی لیبیا کے ساتھ واقع سرحد کو جمعہ سے اتوار تک تین دن کے لیے سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔تیونس میں تین سال قبل مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلے پارلیمان انتخابات ہیں۔اس سے پہلے دوسال کی عبوری مدت کے لیے قانون ساز اسمبلی کا انتخاب کیا گیا تھا جس نے ملک کا نیا دستور وضع کیا تھا اور اس کی منظوری دی تھی۔