.

جنوبی یمن میں مظاہرے،آزادی کا مطالبہ

علاحدگی پسند گروپوں کے دو اتحادوں کے زیراہتمام احتجاجی ریلیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی شہروں میں علاحدگی کے حامی ہزاروں افراد نے نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور انھوں نے ایک مرتبہ پھر جنوبی یمن کی آزادی کا مطالبہ کیا ہے۔

عدن میں دوعلاحدگی پسند گروپوں کے اتحاد سے تشکیل پانے والی جنوبی یمن کی سپریم کونسل برائے انقلابی امن تحریک نے آج یوم الغضب منانے کا اعلان کیا تھا اور اس کی اپیل پر عدن اور دوسرے جنوبی شہروں میں مظاہرے کیے گئے ہیں۔مظاہرین نے سابق خودمختار ملک جنوبی پرچم کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور وہ آزادی کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔

سپریم کونسل نے حکومت کے لیے کام کرنے والے جنوبی یمنیوں خاص طور پر مسلح افواج اور پولیس کے اہلکاروں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنی ملازمتوں کو خیرباد کہ دیں اور ان سے مظاہروں میں حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔عدن میں گذشتہ جمعہ کو بھی لوگوں نے مظاہرے کیے تھے اور اس کے بعد سے انھوں نے شہر میں دھرنا دے رکھا ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی یمن 1967ء میں برطانوی نوآبادیات کے خاتمے کے بعد سے 1990ء تک ایک خودمختار اور آزاد ملک رہا تھا اور اسی سال اس نے شمالی یمن کے ساتھ یونین قائم کرلی تھی اورایک متحدہ یمن وجود میں آیا تھا۔اب ایک مرتبہ پھر جنوبی یمن کے باسی ملک کی علاحدگی اورآزادی کا مطالبہ کررہے ہیں اور وہ شمالی یمن کی قیادت پر جنوبی یمنیوں کو دیوار سے لگانے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔

یمن کے شمالی صوبوں اور شہروں میں حوثی شیعہ باغیوں کی حالیہ ہفتوں کے دوران شورش کے بعد جنوبی یمنیوں نے بھی سر اٹھایا ہے۔سپریم کونسل کی قیادت جنوبی یمن کے سابق جلا وطن صدرعلی سالم البائد کررہے ہیں۔اس کے ساتھ بیس اور گروپوں اور تنظیموں پر مشتمل قومی کونسل برائے آزادیٔ جنوب کے نام سے ایک الگ اتحاد بھِی قائم ہوا ہے۔اس کی قیادت جنوبی یمن کے سابق وزیرداخلہ محمد علی احمد کررہے ہیں۔

جنوبی یمن میں گذشتہ قریباً ایک عشرے سے شمالی یمن سے علاحدگی کی تحریک چل رہی ہے اور اس کے مکین صنعا حکومت پر ان کے جائز مطالبات بھی تسلیم نہ کرنے کے الزامات عاید کرتے چلے آرہے ہیں جبکہ جنوبی صوبوں میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ سرگرم ہے اور اس کے جنگجو سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔