.

سابق یمنی صدر پر اقوام متحدہ کی پابندیاں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح سمیت تین شخصیات کے خلاف پابندیاں عاید کرنے کی تیاری کررہی ہے اور ان پر یہ پابندیاں یمن میں جمہوری انتقال اقتدار کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے الزام میں عاید کی جارہی ہیں۔

سابق صدر علی عبداللہ صالح کے علاوہ حوثی شیعہ باغیوں کی دو شخصیات کے خلاف یہ نئِی پابندیاں عاید کی جارہی ہیں۔ العربیہ نیوز چینل نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے عاید کردہ پابندیوں کے تحت ان کے غیرملکی بنکوں میں موجود اثاثے منجمد کر لیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ علی صالح خود بھی زیدی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ 2012 ء میں اپنی برطرفی سے قبل حوثی باغیوں کے خلاف لڑتے رہے تھے۔لیکن اب وہ دوبارہ برسراقتدار آنے کی امید میں انہی حوثی باغیوں کی حمایت کررہے ہیں۔

حوثیوں نے گذشتہ ایک ماہ سے دارالحکومت صنعا میں اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے اور وہ شمال سے لے کر جنوب تک یمنی سکیورٹی فورسز اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں۔علی عبداللہ صالح نے مبینہ طور پر حوثی باغیوں کی مختلف شہروں پر قبضے کے لیے بھی مدد کی ہے۔

انھوں نے چند روز قبل حوثیوں کی سیاسی قیادت سے خفیہ ملاقاتیں کی تھیں۔ان ملاقاتوں میں حوثیوں کی جانب سے مبینہ طور پر سیاسی تعلقات کے سربراہ حسین العزی نے بھی شرکت کی تھی۔انھوں نے ہی دوسری سیاسی جماعتوں اور حکمراں جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کے رکن عارف الذوقا کے ساتھ شراکت اقتدار کے فارمولے پر دستخط کیے تھے۔

اس فارمولے کے تحت یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے سابق وزیرتیل اور اقوام متحدہ میں سابق سفیر خالد بحاح کو نیا وزیراعظم نامزد کیا تھا۔اس سے پہلے ان کے نامزد کردہ وزیراعظم احمد عواد بن مبارک نے شیعہ حوثی باغیوں کی جانب سے شدید مخالفت کے بعد حکومت بنانے سے معذرت کر لی تھی۔

ہزاروں حوثی باغی 21 ستمبر سے صنعا میں فوجی دستوں کو خونریز جھڑپوں میں شکست دینے کے بعد سے قابض ہیں۔اب وہ دارالحکومت میں تمام روزمرہ کاروبار زندگی کو کنٹرول کررہے ہیں۔وہ نئی قومی حکومت کے قیام تک شہر کو خالی کرنے سے انکار کرچکے ہیں۔تاہم امریکا ،مغربی اور خلیجی ممالک اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ یمن میں عدم استحکام سے القاعدہ مضبوط ہوسکتی ہے۔