.

یمنی فوج اور امریکی ڈرون کے سنی قبائل پر حملے

حوثی باغیوں کی وسطی صوبےمیں سنی قبائل اور القاعدہ سے جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سرکاری فوج اور امریکا کے ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے القاعدہ کے مشتبہ جنگجوؤں اور سنی قبائل کے زیر قبضہ ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں جن میں کم سے کم بیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یمن کے سنی قبائل کے ذرائع نے بتایا ہے کہ وسطی صوبے بیضاء کے قصبے رداع میں جمعہ کی شام سے حوثی شیعہ باغیوں اور مسلح قبائل کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔حوثی باغی دارالحکومت صنعا میں کنٹرول کے بعد اب ملک کے جنوبی اور وسطی صوبوں کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں لیکن انھیں وہاں آباد سنی قبائل اور القاعدہ کے جنگجوؤں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

قبائلی ذرائع کے مطابق اتوار کے روز یمنی فوج کے جیٹ طیاروں اور امریکی ڈرون نے اہل سنت اور القاعدہ کے زیر قبضہ متعدد ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے بعد وہ وہاں سے پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں اور حوثی باغیوں نے ان پر قبضہ کر لیا ہے۔

ایک قبائلی ذریعے کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں القاعدہ کے کم سے کم بیس جنگجو مارے گئے ہیں۔تاہم آزاد ذرائع سے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے ہفتے کے روز بھی رداع کے نزدیک دو گاڑیوں پر ایک میزائل داغا تھا جس سے ان میں سوار القاعدہ کے دس جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ حوثی شیعہ باغیوں کو ملک کے شمالی علاقوں میں پیش قدمی کے دوران تو کسی خاص مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا لیکن جنوبی اور وسطی صوبوں میں انھیں سنی قبائل اور القاعدہ کے جنگجوؤں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور ان کے درمیان حالیہ دنوں میں خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں بیسیوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

صنعا میں حوثیوں کے 21 ستمبر کو قبضے کے بعد سے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی عمل داری مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے اور شہر میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے بجائے حوثی جنگجو کاروبار زندگی چلا رہے ہیں۔اب ملک کے طول وعرض میں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان جھڑپوں اور جنوب میں ایک مرتبہ پھر علاحدگی پسندوں کے سراٹھانے سے یمن کے ایک ناکام ریاست میں تبدیل ہونے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔