.

تیونس: النہضہ نے انتخابی شکست تسلیم کر لی

فاتح سیکولر جماعت سے مل کر حکومت بنانے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی اعتدال پسند اسلامی جماعت النہضہ نے پارلیمانی انتخابات میں شکست تسلیم کر لی ہے۔ البتہ اس نے سیکولر جماعت ندا تیونس کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے کا عندیہ دیا ہے۔

النہضہ کے عہدے دار لطفی زیتون نے کہا ہے کہ ''ہم نے انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیا ہے اور فاتح جماعت ندا تیونس کو مبارک باد دیتے ہیں''۔ انھوں نے النہضہ کی شمولیت سے ملک کے مفاد میں مخلوط حکومت کے قیام پر زور دیا ہے۔

قبل ازیں ند اتیونس نے ملک میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق اس نے پارلیمان کی دو سو سترہ میں سے اسّی سے زیادہ نشستیں جیت لی ہیں جبکہ النہضہ نے سڑسٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ نئی پارلیمان کی مدت پانچ سال ہے۔ اس کے انتخاب کے لیے اتوار کو پولنگ ہوئی تھی اور ووٹ ڈالنے کی شرح ساٹھ فی صد رہی تھی۔

ندا تیونس کی خاتون ترجمان ایضاء قلیبی نے کہا کہ ''دستیاب معلومات کے مطابق ہماری اسّی سے زیادہ نشستیں ہونی چاہئیں''۔ انھوں نے یہ بیان تیونس کی دو پولنگ کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ ایگزٹ پول کی بنیاد پر جاری کیا تھا۔اس کے مطابق نداتیونس نے 37 فی صد اور عبوری دور کی حکمراں النہضہ نے 26 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

تیونس کے الیکشن کمیشن نے ابھی عام انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان نہیں کیا ہے۔اگر مذکورہ نتائج کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ النہضہ کی ڈرامائی طور پر انتخابات میں بڑی ناکامی ہوگی۔ اس نے اکتوبر 2011ء میں عبوری دستور ساز اسمبلی کے منعقدہ انتخابات 42 فی صد نشستیں حاصل کی تھیں اور حکومت بنائی تھی۔تاہم وہ ملک کو درپیش معاشی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی تھی اور اس کی حکومت قبل از وقت ختم ہو گئی تھی۔