.

"حوثی بندوق بردار شہروں اور تنصیبات کا قبضہ چھوڑ دیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی نے اہل تشیع مسلک کے حوثی قبیلے کے مسلح گروپ انصار اللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دارالحکومت صنعاء سمیت ملک کے تمام شہروں اور تنصیبات پر اپنا قبضہ فوری طور پر ختم کریں۔ انہوں نے ملک کی دیگر سیاسی قوتوں پر بھی موجودہ نازک حالات میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے اور حکومت کے ساتھ تعاون پر زور دیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر منصور ھادی کی جانب سے حوثیوں کے دارالحکومت پر قبضے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب انہوں نے کھل کر حوثیوں کی مسلح کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

ایوان صدر میں منعقدہ نیشنل ڈیفنس کونسل کے اجلاس اور اپنے مشیروں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شراکت اقتدار کا فارمولہ طے پا جانے کے بعد حوثیوں کا سرکاری دفاتر پر قبضہ اور مسلح کارروائیوں کو وسعت دینے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے۔ حوثیوں کے آئے روز نئے مطالبات ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہیں۔ اس لیے میں حوثی گروپ انصار اللہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر تمام سرکاری املاک پر قبضہ ختم کرتے ہوئے شہروں سے نکل جائے شراکت اقتدار کے قومی معاہدے پرعمل درآمد میں حکومت کے ساتھ تعاون کرے۔ اجلاس میں نو منتخب وزیر اعظم خالد بحاج بھی موجود تھے۔

اس موقع پر صدر ھادی نے حوثیوں پر الزام عاید کیا کہ وہ سرکاری دفاتر، تنصیبات، وزارتوں اور تیل کمپنیوں کے مراکز پر حملے کر کے ملک اور اداروں کو کمزور کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے القاعدہ کے خلاف جنگ کو دوسروں کے خلاف حملوں کا جواز بنانے اور ملک میں فرقہ وارانہ جنگ چھیڑنے کی کوشش کی ہے۔ حوثیوں کا یہ فلسفہ کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہو گا۔