.

یمنی حکومت میں حوثیوں کے لیے چھ وزارتیں مختص

قومی حکومت کی تشکیل میں اہم پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے نو منتخب وزیر اعظم انجینیر خالد بحاح نے کہا ہے کہ نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے مختلف سیاسی دھڑوں کے ساتھ صلاح مشورہ جاری ہے۔ ابتدائی مشاورتی اجلاس میں قومی حکومت میں شامل مختلف سیاسی جماعتوں کے لیے وزارتوں کی تعداد متعین کر دی گئی ہے۔ چار اہم وزارتوں کے لیے وزیروں کا انتخاب صدر جمہوریہ اپنی صوابدید کے مطابق کریں گے۔

دارلحکومت صنعاء میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نو منتخب وزیر اعظم خالد بحاح نے بتایا کہ قومی حکومت میں تمام نمائندہ سیاسی قوتوں کو ان کی حیثیت کے مطابق نمائندگی دی گئی ہے اور اسی اصول کے تحت وزارتوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ جنرل پیپلز کانگریس کے لیے نو وزارتیں رکھی گئی ہیں، نو وزارتیں جوائنٹ پارٹیز اور ان کے حلیفوں کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ جنوبی یمن کی پرامن موومنٹ کے لیے چھ اور حوثیوں کی انصار اللہ کو بھی چھ وزارتیں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ، خزانہ، دفاع اور داخلہ کے لیے وزراء کا تقرر صدر اپنی صوابدید پرکریں گے۔

نو منتخب وزیر اعظم نے بتایا کہ جنرل پیپلز کانگریس اور اس کی حلیف جماعتوں کو مقامی حکومت، ماہی گیری، اطلاعات، صحت، امور نوجوانان، کھیل، انسانی حقوق، سیاحت کے محکمے دیے جائیں اور انہی میں سے دو وزرائے مملکت کا بھی انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔

جوائنٹ پارٹیز گروپ اور ان کے حلیفوں کو پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، نقل وحمل، اوقاف ومذہبی امور، سماجی امور، وزارت محنت، اعلیٰ تعلیم، سائنسی ریسرچ، پانی، ماحولیات، پارلیمانی امور جیسے محکموں کے قلم دان سونپے جائیں گے۔ ان میں سے ایک وزیر مملکت کا انتخاب الگ سے کیا جائے گا۔

جنوبی یمن کی جماعتوں کے لیے تعلیم، انفارمیشن ٹکنالوجی، ٹیلی کمیونیکشنز، عمومی امور وشاہرات، صنعت، تجارت، زراعت اور قانونی امور کی وزارتیں دی جائیں گی۔

حوثیوں کے حصے میں وزارت انصاف، بجلی توانائی، سول سروسز، انشورنس، تیل وقدرتی وسائل، پیشہ وارانہ تعلیم اور ثقافت کے عہدے رکھے گئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں یمنی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وزاتوں کی تقسیم ایک مشکل مرحلہ تھا جسے خوش اسلوبی سے طے کر لیا گیا ہے۔ اس کے بعد وزارتوں کے لیے مختلف جماعتوں سے ناموں کی فہرست طلب کی گئی ہے۔ باہمی صلاح مشورے سےمحتلف محکموں کے وزیروں کا تقرر عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کے امیدوار کے لیے متعلقہ محکمے میں مہارت کے ساتھ ساتھ اس کی اہلیت، انسانی حقوق کے احترام، غیرجانب داری اور شفافیت کو بھی پرکھا جائے گا۔