.

ایران: ھاشمی رفسنجانی ماہرین کونسل کی قیادت کے امیدوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ’رہبر اعلیٰ‘ کو منتخب کرنے والی کونسل کے سابق چیئرمین آہت اللہ مہدوی کنی کے انتقال کے بعد ادارے کے نئے سربراہ کے چناو کے لیے قدامت پسند اور اصلاح پسندوں کے درمیان ایک نئی کشمکش شروع ہو گئی ہے۔

قدامت پسند کونسل کے موجودہ وائس چیئرمین اور قائم مقام چیئرمین محمود ھاشمی شاھرودی کو ہی ادارے کا سربراہ بنانا چاہتے ہیں جبکہ اصلاح پسند علی اکبر ھاشمی رفسنجانی جیسے اعتدال پسند شخص کو ماہرین کونسل کی قیادت سونپنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی ’شورائے نگہبان‘ یعنی گارڈین کونسل کے موجودہ چیئرمین اور سابق صدر علی اکبر ھاشمی رسنجانی نے ماہرین کونسل کے چیئرمین کے عہدے کے لیے امیدوار بننے کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ھاشمی رفسنجانی کی ذاتی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں انہوں نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ ماہرین کونسل کے چیئرمین کے عہدے کے لیے امیدوار بننے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔

ویب سائٹ میں سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کا وہ بیان نقل کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی غیر صالح شخصیت ماہرین کونسل کے سربراہ کے لیے آگے آئی تو وہ خود بھی بھی اس میدان میں اتریں گے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ماہرین کونسل کے سخت گیر رکن احمد خاتمی نے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے 'العالم' ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ھاشمی رفسنجانی کا ماہرین کونسل کی قیادت سنھبالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے البتہ اس عہدے کے لیے آیت اللہ محمود شاھرودی موزوں امیدوار ہیں۔ آیت اللہ علی محمود شاھرودی اس وقت کونسل کے وائس چیئرمین ہیں اور وہی ادارے کے چیئرمین کے مضبوط امیدوار ہیں۔

گارڈین کونسل کے تعلقات عامہ کے نگران رضا سلیمانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ احمد خاتمی کا ھاشمی رفسنجانی کے بارے میں بیان ان کا ذاتی گمان ہے۔ رفسنجانی کو ماہرین کونسل کے سربراہ کے عہدے کے لیے امیدوار بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

آیت اللہ محمود ھاشمی شاھرودی ایران اور عراق میں اہل تشیع کے ایک ممتاز مذہبی رہ نما سمجھے جاتے ہیں۔ چھیاسٹھ سالہ شاھرودی عراق کے شہر نجف میں سنہ 1948ء میں پیدا ہوئے اور النجف کے علمی مرکز سے تعلیم حاصل کی۔ ایران میں سنہ 1979ء کے ولایت فقیہ کے انقلاب کے بعد وہ تہران منتقل ہو گئے اور ان کا شمار ملک کے سرکردہ علماء میں ہونے لگا۔

سنہ 1999 ء سے 2009ء تک وہ ایران کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے اور انہیں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قرب حاصل رہا تاہم ان کے سابق اصلاح پسند صدر محمد خاتمی اور شورائے نگہبان سربراہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔

محمود ھاشمی شاھرودی عراق کے ان اولین اہل تشیع علماء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ایران میں ولایت فقیہ کے نظام حکومت کی حمایت کا اعلان کیا۔