.

بنگلہ دیش: امیر جماعت اسلامی مطیع الرحمان نظامی کو سزائے موت

پاکستان سے وفاداری کے سبب سزا پانے والے جماعت کے تیسرے اہم رہنما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش کے ایک خصوصی ٹریبونل نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مطیع الرحمان نطامی کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان پر 1971 میں پاکستان کے خلاف بغاوت اور پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان سے وفاداری اور ہزاروں افراد کے قتل میں کردار ادا کرنے کا الزام تھا۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سابق امیر نوے سالہ پروفیسر غلام اعظم محض چند روز قبل جیل میں ہی انتقال کر چکے ہیں۔ انہیں دی گئی سزائے موت کو بعد ازاں نوے سال قید کی سزا میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ ان کی نماز جنازہ میں لاکھوں بنگالی شریک ہوئے۔

مطیع الرحمان ماضی میں بنگلہ دیش کی مرکزی حکومت کے وزیر رہ چکے ہیں، وہ ایک سے زائد مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔

ان پر 16 مختلف الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ ان میں نسل کشی، قتل، تشدد، زنا اور سرکاری املاک کی تباہی کے الزامات بھی شامل تھے۔

بنگلہ دیش کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی فوج نے اپنے مقامی حامیوں کی مدد سے 30 لاکھ افراد کو قتل کیا تھا، دولاکھ عورتوں کی عزت پامال کی تھی جبکہ ایک کروڑ کو بے گھر ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ آزاد ذرائع ان اعداد و شمار کوانتہائی مبالغہ آمیز اور سیاسی مقاصد کا شاخسانہ قراردیتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی حسینہ واجد کی حکومت آنے کے بعد سے سخت عتاب اور سیاسی انتقام کا شکار ہے۔ اس کے سینکڑوں کارکن جیلوں میں ہیں اور اعلی قیادت کو تقریبا 43 سال گذرنے کے بعد قتل جیسے الزامات کا سامنا ہے۔