.

صنعاء میں حوثیوں کا دھرنا ختم، حالات معمول پر آنا شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ دو ماہ سے یمن کے دالحکومت اور اہم سرکاری تنصیبات کا گھیراو کرنے والے حوثی شدت پسند باغیوں نے دھرنا ختم کر دیا ہے جس کے بعد صنعاء شہر میں حالات معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثی عسکریت پسند تنظیم ’’انصار اللہ‘‘ کے زیر انتظام دھرنے منظم کرنے کے لیے قائم کردہ کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت اور حوثیوں کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد انہوں نے دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان کے مطابق حوثی مظاہرین کے مطالبات پورے ہو گئے ہیں۔ دھرنے اور ملین مارچ کے مقاصد پورے ہونے کے بعد اب شرکاء کو گھروں کو لوٹنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ دارالحکومت صنعاء کے اہم مراکز اور سرکاری تنصیبات کا گھیراو کرنے والے حوثی بندوق برداروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری دفاتر کا قبضہ چھوڑ دیں۔

خیال رہے کہ حوثیوں کی اسی دھرنا کمیٹی نے چند روز پیشتر اپنے مطالبات میں شدت لانے کے لیے شہر کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت دارالحکومت میں اہم حکومتی تنصیبات پر یلغار کرنے اور صنعاء کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر دھرنے دینے کا اعلان کیا تھا۔ مبصرین نے دھرنا پارٹی کی واپسی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھرنوں کے خاتمے سے دارالحکومت میں معمولات زندگی کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔

حوثیوں کو طاقت کے ذریعے روکنے کے مطالبات

یمن میں مختلف سیاسی جماعتوں اور سیاسی ماہرین نے مسلح حوثی شدت پسندوں کے بڑھتے اثر رسوخ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف حوثیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ حکومت کی نا اہلی پر بھی سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثی شدت پسندوں کو اس مقام تک لانے کی ذمہ دار خود حکومت بھی ہے۔ حکومت کو طاقت کے ذریعے حوثیوں کی توسیع پسندی روکنا چاہیے تھی۔

یمنی دانشور خالد مدھش نے’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کمزوری کے نتیجے میں مٹھی بھر حوثی ایک ماہ کے اندر اندر دارالحکومت صنعاء پر قابض ہو گئے تھے۔ انہوں نے وسط اگست میں حکومت کے خلاف ملین مارچ شروع کیا اور 21 ستمبر کو دارالحکومت صنعاء کو مکمل طور پر مفلوج کرکے وزیر اعظم سیکرٹریٹ، ایوان صدر، پارلیمنٹ ہائوس سمیت کئی اہم سرکاری تنصیبات پر قبضہ کر لیا تھا۔ حوثیوں نے صرف سرکاری دفاتر کو یرغمال نہیں بنایا بلکہ مسلح جنگجوئوں کی مدد سے ملک کے سیکیورٹی اداروں کو بھی شہر سے باہر دھکیل دیا تھا۔

یمن کی ایک سیاسی جماعت وحدوی الناصری کی جانب سے جاری بیان میں حوثیوں کی توسیع پسندی کے ساتھ حکومت کی کمزوری کوبھی تنقید کا نشانہ بنایاگیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ حوثیوں کو طاقت کے ذریعے روکے۔ مٹھی بھر لوگوں کے سامنے ہتھیار ڈالنا بزدلی ہے۔ حکومت نے خود ہی حوثیوں کو دارالحکومت پر چڑھ دوڑنے اور سرکاری اداروں کو یرغمال بنانے کا موقع فراہم کیا۔