.

یو اے ای :طالبات کی قومی سروس میں شمولیت

بڑی تعداد نے اختیاری خدمات کے لیے ناموں کا اندراج کرادیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) کے دارالحکومت ابوظبی میں مسلح افواج کی منعقدہ ایک نمائش کے موقع پر طالبات کی بڑی تعداد نے قومی سروس میں شمولیت کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔

اماراتی خواتین کے لیے قومی سروس میں شمولیت اختیاری ہے لیکن اس کے لیے اندراج سے ریاست سے دوسرے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں اور ان میں سرکاری محکموں اور نجی کاروباروں میں ملازمتوں کے حصول میں ترجیح ،شادی کے لیے گرانٹس ، رہائشی پلاٹس اور وظائف کا حصول شامل ہیں۔

ابوظبی میں عسکری تربیت کے ادارے میں متعین ایک ٹرینر عزا جاسم کا کہنا ہے کہ ''متحدہ عرب امارات میں صنفی امتیاز کی سب سے بڑی علامت فوج میں خواتین کی شمولیت ہے۔اماراتی خواتین کی بڑی تعداد نے اس سال اپنے ملک کے دفاع کے لیے خدمات انجام دینے کی غرض سے بڑی شدید خواہش کا اظہار کیا ہے''۔

قبل ازیں اسی سال یو اے ای میں ایک قانون جاری کیا گیا تھا جس کے تحت اماراتی مردوں کے لیے فوجی خدمات کو لازمی قرار دے دیا گیا تھا اور یہ اقدام خطے میں جاری بد امنی کے پیش نظر کیا گیا تھا۔

اس قانون کا اٹھارہ سے تیس سال کے درمیان عمر کے تمام مردوں پر اطلاق ہوتا ہے۔اس کی ایک شرط یہ ہے کہ ان کی صحت اچھی ہو اور ان کے پاس ہائی اسکول کی ڈگری ہو۔ایسے لوگ نوماہ تک لازمی فوجی خدمات انجام دیں گے لیکن جن مردوں کے پاس ہائی اسکول کا ڈپلوما نہیں ہوگا،وہ دو سال تک لازمی فوجی خدمات انجام دینے کے پابند ہوں گے۔