.

بن غازی :لیبی فوج کا چار بیرکوں پر دوبارہ قبضہ

انصارالشریعہ کے جنگجو پسپا ہوکر بندر گاہ کی جانب چلے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج کے خصوصی دستوں نے مشرقی شہر بن غازی میں اسلامی جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی کے بعد چار بیرکوں پر دوبارہ قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

بن غازی میں سرکاری فوج اور انصارالشریعہ کے جنگجوؤں کے درمیان گذشتہ دوہفتوں سے خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔سرکاری فوج کو باغی جنرل خلیفہ حفتر کی وفادار ملیشا اور دوسرے جنگجوؤں کی بھی حمایت حاصل ہے۔اس شہر میں اب تک لڑائی میں دو سو دس افراد مارے جاچکے ہیں۔

لیبیا کی خصوصی فورسز کے کمانڈر وینس بو خمدہ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کے دستوں نے بن غازی میں چار کیمپوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ان میں آرمی کا سابق ہیڈکوارٹرز بھی شامل ہے،ان بیرکوں پر انصار الشریعہ کے جنگجوؤں نے اگست میں قبضہ کر لیا تھا۔

آرمی کا کہنا ہے کہ اس نے ہوائی اڈے کے علاقے سے پہلے ہی اسلامی جنگجوؤں کو نکال باہر کیا ہے۔کمانڈر بوخمدہ کے بہ قول اس وقت آرمی کا شہر کے اسی فی صد علاقے پر کنٹرول ہوچکا ہے اور دوسرے علاقوں کو انصار الشریعہ کے جنگجوؤں سے پاک کیا جارہا ہے۔

فوج کی ٹینک بٹالین کے کمانڈرکرنل مہدی البرغاثی کا کہنا ہے کہ انصارالشریعہ کے جنگجو پسپا ہو کر بندرگاہ کی جانب چلے گئے ہیں اور اب ان کے ساتھ شہر کے مغرب میں جھڑپیں جاری ہیں۔گذشتہ دو روز کے دوران لڑائی میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ اسلامی جنگجوؤں پر مشتمل فجر لیبیا نے طرابلس میں اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے جبکہ مغرب کے حمایت یافتہ وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت نے دوردراز مشرقی شہر طبرق میں اپنے دفاتر قائم کررکھے ہیں اور نئی پارلیمان کے اجلاس بھی وہیں منعقد ہوتے ہیں جبکہ کمزور مرکزی حکومت کے تحت فوج مسلح جنگجو گروپوں پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔