.

ہر ساتواں برطانوی نوجوان داعش کا پُرجوش حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں حال ہی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق ہرساتواں نوجوان عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولتِ اسلامی (داعش) کا پُرجوش حامی ہے۔

لندن سے شائع ہونے والے اخبار''دا ٹائم'' نے جمعہ کو اس سروے کے نتائج کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ داعش کے حامیوں میں اضافہ سیاست مخالف جذبات کی وجہ سے ہے۔

برطانیہ میں پچیس سال سے کم عمر نوجوانوں کی اکثریت اس جنگجو گروپ کی حامی ہے۔ماہرین نے اس کی ایک اور بڑی یہ بیان کی ہے کہ داعش کے جنگجو میدان جنگ میں خوب داد شجاعت دے رہے ہیں اور نوجوان اس صفت کی وجہ سے اس جنگجو گروپ کے گرویدہ ہورہے ہیں۔

''دا ٹائمز'' میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق سروے میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے دوہزار بالغ نوجوانوں سے سوال پوچھے گئے تھے۔اس سلسلے میں انتہاپسند گروپوں سے متعلق ایک سے دس درجے تک اسکیل بنائی گئی تھی اور یہ اب تک داعش کے برطانیہ میں اثرات کے حوالے سے پہلا مکمل سروے ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سروے سے بہت سے غیر مسلموں کے برطانوی حکومت سے متعلق جذبات کی بھی عکاسی ہوتی ہے اور انھوں نے اس حکومت کو مسترد کردیا ہے۔ کنگز کالج لندن میں مذہب کی سماجیات کے سینئیر لیکچرار مارات شترین کا کہنا ہے کہ برطانوی نوجوانوں کی جانب سے داعش کی واضح حمایت کی تین وجوہ ہوسکتی ہیں:''خارجہ امور سے متعلق لاعلمی ،مرکزی دھارے کے میڈیا پر عدم اعتماد اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف باغیانہ احساسات شامل ہیں''۔

مانچسٹر یونیورسٹی میں برطانوی مذہب کے ڈائریکٹر کلائیو فیلڈ کا کہنا ہے کہ '' اس پول سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ہرہفتے کیوں پانچ برطانوی شہری جہاد کے لیے جا رہے ہیں ہمارے پانچ سو لوگ پہلے ہی وہاں (شام وعراق میں) موجود ہیں''۔