.

افغان خاتون اول پردے پر پابندی کی حامی نکلیں

مسیحی پس منظر کی حامل خاتون اول خواتین کو نیا ماحول دیں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں خاتون اول کا مرتبہ پانے والی لبنانی نژاد رولا غنی فرانس میں حجاب پر پابندی کی حامی ہیں اور سمجھتی ہیں افغانی برقعہ پہننے سے انسان 'اندھا اندھا' سا لگتا ہے۔ خاتون اول کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں خواتین کے زیادہ باعزت مقام حاصل کرنے کے لیے جدو جہد کی تیاری کر رہی ہیں۔

مذہبی حوالے سے مسیحی پس منظر رکھنے والی رولا غنی لبنان کے ماڈرن ماحول کا حصہ ہونے کے علاوہ فرانس کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہی ہیں۔ وہ یونیورسٹی کے زمانے میں دوسری طالبات کی طرح خود بھی سکارف پہنا کرتی تھیں لیکن یہ 1960 کی دہائی کی بات ہے۔

اسی زمانے میں تعلیم سے فراغت کے بعد انہیں لبنان میں اے ایف پی کے ساتھ منسلک ہونے کا موقع ملا۔ اس موقع کی بنیاد پر ان کے خیال میں ان کی اپروچ زیادہ 'منطقی' ہو گئی۔ سنہ 1970 کی دہائی میں شادی کے بعد پہلی مرتبہ اپنے سسرالی ملک افغانستان میں تین برس تک رہیں۔ بعد ازاں اپنے شوہر اشرف غنی کے ساتھ امریکا چلی گئیں۔

ایک طویل عرصے کے بعد دوبارہ افغانستان 2002 میں اس وقت آئیں جب ان کے شوہر کو وزیر خزانہ بنایا گیا اور وہ بنک کی ملازمت چھوڑ کر افغانستان آ گئے۔ خاتون اول کو افغانستان میں ان کے شوہر کے سیاسی حریفوں کی طرف سے اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پرا جب صدارتی انتخاب کے لیے مہم جاری تھی۔ رولا گانی کو عیسائی ہونے کے ناطے تنقید کا نشا نہ بنایا گیا۔

تاہم وہ اب مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے کٹر روایات کے حامل ملک کے ایوان صدر میں پہنچ چکی ہیں جہاں صرف اپنے لیے مصروفیت نہیں بلکہ اپنے ملک کی خواتین کے لیے نئی دنیا اور نئی روایات متعارف کرانا چاہتی ہیں۔ رولا غنی کہتی ہیں ''جب پہلی مرتبہ فرانس سکارف اور پردے کے حوالے سے تنازعہ پیدا ہوا تو مجھے قدرے دکھ ہوا، ایسا لگا کہ جیسے لوگوں کی یاد داشت زیادہ اچھی نہیں ہے۔''

واضح رہے فرانس میں 2011 میں مکمل نقاب اوڑھنے پر پابندی لگا گئی تو ایک آتشیں بحث چھڑ گئی۔ افغان خاتون اول کہتی ہیں وہ فرانس میں پردے پر عاید پابندی کی حامی ہیں۔ رولا غنی کے مطابق ''فرانس کے قانون میں نقاب اوڑھنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ نقاب کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں دقت پیش آتی ہے، اس لیے میں اس حوالے سے فرانس حکومت کی مکمل حمایت کرتی ہوں۔ ''

یہ ایک عورت کا کھلا اور دوٹوک رد عمل ہے جو اپنی پیش رو خاتون اول زینت کرزئی کی طرح گھر میں بیٹھی رہنے والی نہیں ہے۔ زینت کرزئی اپنے شوہر حامد کے 13 سالہ دور صدارت کے دوران کبھی باہر نظر نہ ائیں۔ افغان معاشرے میں خواتین کا اپنے ولی کے بغیر باہر جانا پسند نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ سعودی معاشرے میں بھی بہتر یہی سمجھا جاتا ہے کہ عورتیں بلا ضرورت باہر نہ جائیں اور جب کہیں جانا ہو تو ان کے ساتھ کوئی محرم رشتہ دار ہو۔

ایک سوال کے جواب میں افغان خاتون اول نے کہا وہ ابھی تک اپنا بطور خاتون اول کردار متعین کرنے کی کوشش میں ہیں۔ انہوں ایک جملے میں کہا '' میں خواتین کے لیے زیادہ عزت کی خواستگار ہوں، اس کی میرے شوہر نے مثال بھی قائم کی ہے۔''

صدر اشرف غنی نے 29 ستمبر کو اپنی افتتاحی تقریر کے دوران ملک کے اندر بے گھر ہو جانے والے افراد، عورتوں اور بچوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا اور کہا میری اہلیہ ان کے لیے کوشاں ہیں۔

رولا غنی نے کہا کثیر جہتی پس منظر کا حامل ہونا ان کے لیے اچھا ہے اگرچہ صدارتی مہم کے دوران ان کے مسیحی پس منظر کو ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔ چھیاسٹھ سالہ خاتون اول نے کہا ''زندگی گزارنے کے دو ہی انداز ہیں ایک کسی کے تابع ہو کر اور دوسرا کسی کو تابع کر کے زندگی گذارنا۔''

ایک مکمل لبرل سوچ رکھنے کی حامل خاتون اول پانچ سالہ صدارتی مدت میں افغان خواتین کو مکمل طور پر ایک نئے انداز سے متعارف کرانے میں کامیاب ہو سکتی ہیں اور افغان خواتین کو لبرل رنگ میں رنگ پاتی ہیں یا نہیں۔ یہ ایک ایسے ملک میں بہت بڑی پیش رفت ہو گی جس ملک میں اس سے پہلے طالبان خواتین کو گھروں کے اندر تک دیکھنا چاہتے تھے۔