.

ایردوآن: پورے شام کے بجائے صرف کوبانی پر توجہ کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُرکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے شام میں جاری شورش کے بجائے صرف کرد اکثریتی علاقے کوبانی پر توجہ مرکوز کرنے پر داعش کے خلاف سرگرم عالمی اتحاد کو تشدید نتقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا "کہ مجھے لگ رہا ہے کہ امریکا کی قیادت میں دولت اسلامی کے خلاف جنگ میں صرف کوبانی پر ساری توجہ مرکوز ہے اور شام کے باقی علاقوں کو فراموش کر دیا گیا ہے۔ عالمی اتحادی فوج کے حملوں کا ہدف صرف کوبانی میں داعش کے جنگجوئوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے کہ وہ شام کے دوسرے علاقوں میں بھی عسکریت پسندوں کی سرکوبی پر توجہ دیں۔"

فرانس کے صدر مقام پیرس میں اپنے فرانسیسی ہم منصب فرانسو اولاند کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوآن نے استفسار کیا کہ ’’صرف کوبانی ہی آخر عالمی اتحادی فوج کی توجہ کا مرکز کیوں ہے؟۔"

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "شام کے ادلب، حماۃ اور حمص جیسے شہر بھی دہشت گردی کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور عراق کا چالیس فی صد علاقہ داعش کے قبضے میں ہے۔ ایسے میں کیا صرف ترکی کی سرحد سے متصل کرد اکثریتی علاقہ کوبانی ہی عالمی اتحادی فوج کے حملوں کا مرکز کیوں ہے؟"۔