.

لمحہ فکریہ: دنیا میں سالانہ 30 فیصد خوراک کا ضیاع

فاضل خوراک سے 800 ملین بھوکوں کے پیٹ بھرے جا سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دُنیا بھر میں جہاں لاکھوں افراد بھوک سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں وہیں کروڑوں لوگ لاکھوں ٹن خوراک ضائع کر دیتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سالانہ 30 فیصد خوراک ضائع کر دی جاتی ہے۔ اگر اسے مستحق لوگوں تک پہنچایا جائے تو اس سے سالانہ دو ارب یا 800 ملین بھوکوں کا پیٹ بھرا جا سکتا ہے۔

خوراک کے ضیاع کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی ادارے سرگرم عمل ہیں مگر ان اداروں کی جانب سے کی جانے والی مساعی بھی اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کی روک تھام میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔

خوراک کا ضیاع روکنے کے لیے سرگرم ادارے کی جانب سے حال ہی میں ایک آن ’لائن گیٹ وے‘ قائم کیا گیا جس میں کرہ ارض کے انسانوں کو خوراک کے ضیاع کے روک تھام کے مختلف طریقوں سے آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس گیٹ وے کے قیام کا مقصد لوگوں میں خوراک کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے شعور اور آگہی فراہم کرنے کی بھی مقدور بھر کوشش کی جائے گی۔ البتہ یہ کوشش کس حد تک کامیاب ہو گی اس کا جواب وقت ہی بتائے گا۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے’’خوراک و زراعت‘‘ کے مطابق سالانہ ایک ارب تیس کروڑ ٹن خوراک ضائع کر دی جاتی ہے جو پوری دنیا میں جمع ہونے والی خوراک کا تیس فیصد ہے۔

امریکا میں قائم قدرتی وسائل کے دفاع کے ایک نجی ادارے سے وابستہ خاتون تجزیہ نگار ڈانا گانڈروز کا کہنا ہے کہ لوگوں میں خوراک بچانے کے لیے شعور اور آگہی میں کمی ہے۔ انہیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ اپنے کچن میں کتنی خوراک ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شعور اور آگاہی وہ پہلا قدم ہے جہاں سے خوراک کو بچانے کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ تحفظ خوراک کی آگاہی کے لیے قائم کردہ گیٹ وے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مسز گائڈزوز کا کہنا ہے کہ گیٹ وے پر جیسے جیسے خوراک کو بچانے کی معلومات میں اضافہ ہو گا اسی مناسبت سے اس کا فائدہ بھی بڑھتا جائے گا اور خوراک کا ضیاع کم ہونے لگے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پھلوں کا اور فصلات کا 40 فیصد، سبزیوں کا 20 فیصد اور خوردنی تیل اور مچھلی وغیرہ کا 35 فیصد ذخیرہ خوراک ضائع ہو جاتا ہے۔