.

یرغمال لڑکیاں 'بیاہی' جا چکی ہیں: بوکو حرام

ابوجہ حکومت سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی: ابو بکر شیخو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نائجیریا کے اسلامی شدت پسند گروہ بوکو حرام کے رہنما ابو بکر شیخو نے یہ بھی کہا کہ چیبوک کے ایک اسکول سے اغوا کی جانے والی 219 لڑکیوں نے مذہب اسلام قبول کر لیا ہے اور ان کی شادیاں کر دی گئی ہیں۔

اسکول کی طالبات کو ریاست بورنو کے چیبوک نامی ایک علاقے سے اپریل میں اغوا کیا گیا تھا اور ابھی تک ان کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے تنظیم کی ایک تازہ ویڈیو پیغام کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی ہے اور اس طرح کے غلط پراپیگنڈے سے ابوجہ حکومت اور بوکو حرام کے مابین مستقبل میں ہونے والے امن مذاکرات منسوخ ہو سکتے ہیں۔

شدت پسند تنظيم بوکو حرام کے رہنما کی یہ ویڈیو ایسے وقت پر منظر عام پر آئی ہے، جب ابھی حال ہی میں نائجیریا کی فوج اور صدر کی طرف سے يہ اعلان کیا گیا تھا کہ بوکو حرام کے ساتھ فائر بندی کی ڈیل طے پا گئی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا تھا کہ بوکو حرام اسکول کی مغوی طالبات کو آزاد کرنے پر بھی رضا مند ہو گیا ہے۔ حکومت کے بقول سترہ اکتوبر کو فریقین نے امن سمجھوتہ کیا تھا لیکن ابو بکر شیخو نے اسے مسترد کر دیا ہے۔

اس تازہ ویڈیو پیغام میں ابو بکر شیخو نے ہاؤسا زبان میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سولہ جولائی کو شمال مشرقی علاقے گومبی سے جرمن شہری کو اسی کے جنگجوؤں نے اغوا کیا تھا اور وہ اب بھی اسی گروہ کے قبضے میں ہے۔ یہ جرمن شہری مبینہ طور پر وہاں ایک حکومتی تربیتی اسکول میں پڑھا رہا تھا۔ جرمن وزارت خارجہ نے اس ویڈیو پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق اس ویڈیو میں شیخو نے سیاہ پگڑی کے ساتھ ملٹری لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ ویڈیو میں اس کے ساتھ اس کے پندرہ جنگجو بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ شیخو کہتا ہے۔ ’’ہم نے کسی کے ساتھ سیز فائر نہیں کیا ہے۔ ہم کسی کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ایک جھوٹ ہے۔ ہم مذاکرات نہیں کریں گے۔ ہمارا اس مذاکراتی عمل سے کیا تعلق۔ اللہ نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔‘‘

یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ ویڈیو کب اور کہاں شوٹ کی گئی۔ پانچ مئی کو جاری کردہ اپنے گزشتہ پیغام میں شیخو نے کہا تھا کہ وہ اسکول کی طالبات کو فروخت کر دے گا۔ اس ویڈیو میں مغوی طالبات کو بھی دکھایا گیا تھا۔ اس نے البتہ اپنے ساتھیوں کی رہائی کے بدلے ان لڑکیوں کو آزاد کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔

اس تازہ ویڈیو میں قہقہہ لگاتے ہوئے شیخو نے کہا، ’’کیا آپ نہیں جانتے کہ اسکول کی بچیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ انہوں نے تو اب قرآن کے دو پارے بھی حفظ کر لیے ہیں۔‘‘ اس نے دعویٰ کیا کہ یہ لڑکیاں شادی کے بعد اپنے نئے گھروں میں پہنچ چکی ہیں۔