.

رشوت دیں''جہادی جان'' کی شناخت جانیں

برطانوی نژاد جنگجو کی اخبار کو معلومات دینے کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار دولتِ اسلامیہ (داعش) سے تعلق رکھنے والے ایک جنگجو نے ایک برطانوی اخبار کو رشوت کے عوض غیرملکی یرغمالیوں کے سرقلم کرکے عالمگیر شہرت پانے والے نقاب پوش قاتل ''جہادی جان'' کی شناخت ظاہر کرنے کی پیش کش کی ہے۔

اخبار میل آن سنڈے نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ بیس سالہ برطانوی جنگجو جنید حسین نے آن لائن مراسلت میں اڑتالیس سو ڈالرز کے بدلے میں جہادی جان کی شناخت ظاہر کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔اس نوجوان جنگجو کو سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر کا پتا اور سوشل سکیورٹی کے نمبرز شائع کرنے پر 2012ء میں چھے ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اخبار نے اس جنگجو کوتو کوئی رقم ادا نہیں کی ہے بلکہ اس کے بجائے پولیس سے رابطہ کیا تھا۔ اس نے مبینہ طور پر انکشاف کیا تھا کہ ''جہادی جان ایک عرب نژاد ہے،وہ پیدائشی مسلمان ہے اور برسوں سے شام میں رہ رہا تھا''۔

رقم کے بدلے میں جنید حسین نے اخبار کو ''جہادی جان'' کا نام اور ایک پرانے ٹویٹر اکاؤنٹ سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی۔اس نے کہا تھا کہ وہ اس رقم کو ایک کار خرید کرنے کے لیے استعمال کرے گا اور اس کے ذریعے شام میں داعش کے مضبوط مرکز الرقہ سے اپنے خاندان کو نکالے گا۔

واضح رہے کہ امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے گذشتہ ماہ داعش کے اس نقاب پوش قصاب کی شناخت کا دعویٰ کیا تھا ۔اس سفاک قاتل کو دو امریکی صحافیوں اور ایک برطانوی امدادی رضاکار کا سرقلم کرنے کی ویڈیوز میں دیکھا گیا تھا۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی نے ایک نیوز کانفرنس میں اس کی شناخت کا دعویٰ کیا تھا لیکن ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس کا یا اس کے ملک کا نام ظاہر نہیں کریں گے۔

برطانوی میڈیا کی اطلاع کے مطابق انٹیلی جنس ادارے لندن سے تعلق رکھنے والے سابق گلوکار عبدالماجد عبدالباری کے ممکنہ طور پر جہادی جان ہونے کی تحقیقات کررہے ہیں۔چوبیس سالہ عبدالباری لی جینی کے نام سے گاتا رہا تھا لیکن بعد میں گلوکاری سے دستبردار ہوکر انتہا پسند جنگجو بن گیا تھا اور شام آگیا تھا۔یو ایس اے ٹو ڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق اس مشتبہ نوجوان کی آوازوں کے موازنے سے شناخت ہوئی تھی اور اس کی ویڈیو والی آواز کا گانے کی آوازوں سے موازنہ کیا گیا تھا۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے ملک کے انٹیلی جنس اداروں کو داعش کے نقاب پوش قاتل کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔اکتوبر کے اوائل میں بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں نے شام میں جہادی جان کی موجودگی کا سراغ لگا لیا تھا لیکن برطانوی سپیشل فورسز نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اس کو قتل کرنے یا پکڑنے کا مشن ناکامی سے دوچار ہوسکتا ہے۔