یمنی صدر کو ٹیکنوکریٹ حکومت بنانے کی ذمہ داری

ملک بھر میں حوثیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یمن میں سرکردہ سیاسی جماعتوں اور نمائندہ شخصیات نے قومی عبوری حکومت کی تشکیل کا اختیار صدر عبد ربہ منصور ھادی کو سپرد کرتے پر اتفاق کیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے صدر مملکت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد کابینہ تشکیل دے ملک کو جاری سیاسی انارکی سے نکالیں۔

اُدھر دوسری جانب اہل تشیع مسلک کے حوثی شدت پسندوں کے خلاف بھی احتجاجی جلوس نکالے جا رہے ہیں۔ صنعاء میں حوثیوں کی مبینہ لوٹ مار اور ریاستی اداروں پر حملوں کے خلاف ایک ریلی نکالی گئی جس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین حوثیوں اور ایران کے خلاف جبکہ صدر منصور ھادی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

مظاہرین نے صدر عبد ربہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں حوثیوں کی غنڈہ گردی کی روک تھام کے لیے عسکری کونسل کا اجلاس طلب کریں، سیکیورٹی فورسز کو زیادہ با اختیار بنایا جائے، صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا اعلان کیا جائے تاکہ عوام حوثی شدت پسندوں کو اپنی گردنوں پر مسلط کرنے کے بجائے مرضی کی قیادت چن سکیں۔

خیال رہے کہ یمن میں حکومت کی تشکیل کی ذمہ داری کی تازہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں حوثیوں نے صدر کو نئی حکومت کی تشکیل کے لیے 10 روز کا الٹی میٹم دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں