یروشلم میں پیدائش پر امریکی شہریت کا سوال، فیصلہ آج متوقع

امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ خارجہ پالیسی کے لیے اہم ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آج اس بارے میں اہم فیصلہ صادر کریں گے کہ آیا یرشلم میں پیدا ہونے والے بچوں کو امریکی شہریت کا حق ہے یا نہیں۔ مبصرین کے خیال میں ہو سکتا ہے عدالت کی طرف سے ایک ایسا فیصلہ سامنے آجائے جو امریکی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن جائے۔

ایسی صورت میں امریکا اور یروشلم کے درمیان بڑھنے والی دوری پر بھی اثر پڑے گا ۔ خیال رہے امریکی حکومت نے اس قانون کے اجراء کو 2002 سے روک رکھا ہے۔ جس کے تحت یروشلم میں پیدا ہونے والی امریکیوں کے بچوں کو بھی امریکی شہری سمجھا جائے گا۔

اس عدالتی فیصلے سے یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ کیا 2002 کے اس قانون اور صدر کے اختیار میں کوئی تصادم تو نہیں ہے جس کے تحت صدر کسی دوسری قوم کے بارے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتا ہے۔

امریکا دوسرے کئی ملکوں کی طرح یروشلم پر اسرائیل کا حق تسلیم نہیں کرتا ہے۔ یہ تنازعہ پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی شہری نے اپنے بچے کے لیے امریکی پاسپورٹ کا دعوی کیا حالانکہ اس کا بچہ یروشلم میں پیدا ہوا تھا۔

امریکی شہری نے اس حوالے سے دس سال سے زیادہ عرصہ تک قانونی جنگ لڑی ہے۔ نو رکنی امریکی سپریم کورٹ کا بنچ یہ فیصلہ ایسے وقت میں دے رہا ہے جب امریکا اور اسرائیل کے درمیان مشرقی یروشلم کے معاملے پر اختلاف سامنے آچکا ہے۔

اسرائیل نے نہ صرف مشرقی یروشلم میں نئی یہودی بستیاں قائم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے بلکہ مسجد اقصی میں آنے پر مسلمانوں پر حالیہ دنوں میں مکمل پابندی بھی لگا دی تھی۔ نیز آئے روز فلسطینیوں کے خلاف اس علاقے میں فوج کا بھی استعمال کر رہا ہے۔

اسرائیل یروشلم کو اپنا دارالحکومت کہتا ہے لیکن امریکا سمیت بہت سے ملک تل ابیب میں اپنے سفارت خانے قائم کیے ہوئے ہیں اور یروشلم کے بارے میں اسرائیلی دعوی تسلیم نہیں کتے۔

اسرائیل نے مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی سمیت دیگر علاقوں پر 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا، امریکا بھی ان علاقوں کو متنازعہ سمجھتا ہے۔

عدالت کے سامنے ارکان کانگریس کے بیانات اور اعتراضات پر امریکی انتظامیہ کا کہنا تھا '' خارجہ پالیسی کے کلیدی امور کو صدر خود دیکھتے ہیں، اگر اس قانوں کو منظور کر لیا گیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ اسرائیل کا یروشلم پر اقتدار تسلیم کر لیا گیا۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں