.

ایران: آیت اللہ علی خامنہ ای کا جانشین کون بنے گا؟

نئے سپریم لیڈر کے بارے میں قیاس آرائیاں زور پکڑ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ریاست کے سب سے طاقتور منصب پر فائز سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی کئی ماہ سے علالت کے بعد اب عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ خامنہ ای کا ممکنہ جانشین کون ہو گا؟ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ پچیس سال سے ملک کے سپریم لیڈر رہنے والے بزرگ رہ نما کی وفات کے بعد آیا کوئی اصلاح پسند ان کی سیٹ سنھبالے گا یا ایران کو ابھی مزید قدامت پسند سربراہان بھگتنا پڑیں گے؟۔

موجودہ سپریم لیڈرا ٓیت اللہ علی خامنہ ای کی طویل علالت کے بعد ایک تصویر گذشتہ ستمبر کے اوائل میں منظر عام پر آئی تھی جس میں انہیں ایران کے ایک اسپتال میں بستر علالت پر دکھایا گیا تھا۔

آیت للہ علی خامنہ ای کا بہ طور مرشد اعلیٰ انتخاب پچیس برس پیشتر عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کے بعد ملک کے تمام اہم ادارے اور محکمے براہ راست سپریم لیڈر کے سامنے جواب دہ رہے۔ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسیوں کا فیصلہ وہ کسی نائب یا ولی عہد کے بجائے خود ہی کرتے رہے۔ مرشد اعلٰی کے نائب کی عدم موجودگی کی وجہ ایران کا نظام حکومت ہے جس میں اس امر کی کوئی وضاحت موجود نہیں کہ مرشد اعلیٰ کی وفات کی صورت میں کس کو ان کا جانیشن بنایا جائے گا؟

مرشد اعلیٰ کی علالت

ایران کے طاقتور لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پچھلے کئی ماہ سے منظر سے غائب ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ان کی علالت ہے۔ وہ کئی ہفتے اسپتال میں زیر علاج رہے۔ اب انہیں اسپتال سے گھر منتقل کر دیا گیا ہے تاہم وہ منظر عام پر آنے سے گریزاں ہیں۔ مرشد اعلیٰ کی مسلسل 'غیر حاضری' سے کئی قسم کی قیاس آرائیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ وہ زیادہ علیل ہیں جب کہ کچھ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مرشد اعلیٰ کو ان کے معالجوں نے آرام کا مشورہ دیا ہے۔ اس لیے وہ منظر عام پر نہیں آ رہے ہیں۔

برطانوی اخبار ’’گارجیئن‘‘ نے بھی خامنہ ای کی علالت اور ان کی ممکنہ جانشینی کے بارے میں ایک طویل رپورٹ میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ اخبار نے’’سائٹ انڈوز‘‘ یونیورسٹی سے وابستہ ایرانی تجزیہ نگار ڈاکٹر علی الانصاری کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ستمبر کے اوائل میں خامنہ کی بستر علالت سے لی گئی جو تصویر شائع کی گئی تھی اس بات کا اظہار تھا کہ مرشد اعلیٰ اب رو بہ صحت ہیں۔ اس تصویر کے ذریعے ایرانی عوام کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ مرشد اعلیٰ کی خرابی صحت کے بارے میں جو قیاس آرئیاں پائی جا رہی ہیں وہ حقئیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

الانصاری کا مزید کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کی کئی ہفتوں تک منظر عام سے دور رہنے کی وجہ سے عوام میں قیاس آرائیاں فطری بات ہے تاہم بستر علالت سے جاری کردہ تصویر کے ذریعے عوام کو یہ بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ ان کے متوقع جانشین کے بارے میں فی الحال غور کی زحمت نہ کریں۔

ایرن کے ایک دانشور نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی اہمیت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا: ’’مملکت اسلامی جمہوریہ ایران ایک جسم کی مانند ہے اور خامنہ ای اس کا سر ہیں۔ وہی تمام اداروں کے قائد ہیں اور ان کی آراء ملک کی پالیسی کا درجہ رکھتی ہیں‘‘۔

اخبار ’’گارجیئن‘‘ مزید لکھتا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو سنہ 1989ء میں ماہرین کونسل نے رہبر انقلاب اسلامی چنا۔ سپریم لیڈر بننے کے بعد انہوں نے تمام اختیارات اپنی ذات میں مرتکز کر دیے حتیٰ کہ انہیں منتخب کرنے والی کونسل بھی انہی کی نگرانی میں آ گئی۔ گو کہ اس وقت وہ علیل ہیں مگر اب بھی وہی ملک کے سیاہ سفید کے مالک ہیں۔ جس کونسل نے پچیس سال قبل انہیں سپریم لیڈر منتخب کیا آج ان کی جگہ کسی دوسرے لیڈر کی تلاش کر رہی ہے۔

ایران میں فیصلہ ساز اداروں کے ایک مقرب تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ ماہرین کونسل اور سپریم لیڈر کے درمیان اختیارات کے حوالے سے ایک کشمکش پائی جاتی رہی ہے۔ خامنہ ای کی وفات کی صورت میں ممکن ہے یہ ادارہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔

تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کا متوقع جانشین ماہرین کونسل کی موجودہ باڈی کے اندر ہی سے ہو گا۔ تاہم وہ بھی خامنہ ای کی طرح تمام اداروں کو اپنی گرفت میں رکھ سکے گا یا نہیں۔ اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں ایران کے ایک مذہبی رہ نما احمد جنتی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ "بعض سیاسی قوتیں ماہرین کونسل کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ شخصیات کے سیاسی مقاصد ہیں اور وہ ماہرین کونسل کو اپنے ہاتھ کی چھڑی بنانا چاہتی ہیں۔"

ڈاکٹر الانصاری کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی وفات کے بعد ان کی جانشینی کے تین ممکنہ سیناریو دکھائی دیتے ہیں۔ اول: یہ کہ کسی ایک شخص کو مرشد اعلیٰ کا منصب دینے کے بجائے ماہرین کونسل ملک کی زمام کار سنھبالے اور سیاسی خلاء کو پر کرے۔ دوم: یہ کہ خامنہ ای خود ہی اپنے کسی ’مصاحب‘ کو اپنا جانشین مقرر کر دیں جو ان کی پالیسیوں کو لے کرآگے چلے۔ سوئم: جس کا امکان زیادہ ہے وہ یہ کہ موجودہ ماہرین کونسل ادارے کے اندر سے کسی رکن کا بہ طور سپریم لیڈر انتخاب عمل میں لایے۔ اسی کا غالب امکان بھی دکھائی دیتا ہے۔

گارجیئن کے مطابق اس وقت ایران میں کئی دبنگ شخصیات سپریم لیدر کے عہدے کے لیے آس لگائے بیٹھی ہیں۔ ان میں ایک نام سابق صدر اور شورائے نگہبان کے چیئرمین علی اکبر ھاشمی رفسنجانی کا بھی ہے۔ رفسنجانی اس عہدے کے سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔80 سالہ رفسنجانی ایک مجھے ہوئے سیاست دان اور اعتدل پسند رہ نما ہیں۔ وہ دو مرتبہ ملک کے صدر اور کئی سال تک ماہرین کونسل کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔ ان کے علاوہ سابق چیف جسٹس آیت اللہ ھاشمی شاھرودی، سخت گیر شیعہ عالم دین آیت اللہ محمد تقی مصباح باردی اور آیت اللہ ابراہیم امینیوہ اس سے قبل بھی شامل ہیں۔