.

سعودی سرکاری وفد کا طیارہ انڈونیشیا میں اتار لیا گیا

طیارہ غلطی سے انڈونیشیا کی فضائی حدود میں داخل ہو گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انڈونیشیا کے جنگی طیاروں نے غلطی سے فضاء میں داخل ہونے والے سعودی عرب سے آئے والے ایک چھوٹے مسافر طیارے کو گھیر کر اسے ایک فوجی اڈے پر اترنے پر مجبور کر دیا۔ مسافر طیارے میں سعودی عرب کا ایک سرکاری وفد سوار تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ واقعہ گذشتہ روز اس وقت پیش آیا جب سعودی عرب کا ایک چھوٹا مسافر طیارہ آسٹریلیا جاتے ہوئے غلطی سے انڈونیشیا کی فضاء میں داخل ہو گیا جسے انڈونیشیا کے جیٹ طیاروں نے گھیر کر ’’التاری‘‘ فوجی اڈے پر اتار دیا۔ ہوائی جہاز برطانوی کمپنی’’گالف اسٹریم‘‘ کا تیارکردہ بتایا گیا ہے۔

انڈونیشین حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے مسافر طیارے نے انڈونیشیا کی فضائی حدود میں داخلے سے قبل کسی قسم اطلاع نہیں دی اور نہ ہی انڈونیشیا کی فضاء استعمال کرنے کی اجازت مانگی تھی جس پر طیارے کو فوجی اڈے پر اتارنا پڑا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہوائی جہاز نے سعودی عرب سے سوموارکے روز اڑان بھری، اس کی اگلی منزل شمالی آسٹریلیا کے صوبائی دارالحکومت داروین تھی تاہم غلطی سے مسافر طیارہ انڈونیشیا کی فضائی حدود میں داخل ہو گیا۔ انڈونیشیا کی فضاء میں داخل ہوتے ہی دو لڑکا طیاروں نے اس کا تعاقب کیا اور مسافر طیارے کے ہواباز کو اسے اتارنے پر مجبور کر دیا تھا۔

طیارے کے سفر کا پلان

انڈونیشیا کے ایک مقامی نیوز ویب پورٹل’’سولویو‘‘ نے فضائیہ کے ترجمان مارشل ھادی تجاجنتو کا ایک بیان نقل کیا ہے۔ مسٹر تجاجنتو کا کہنا ہے کہ جس طیارے کو انڈونیشیا کی فضاء میں روکا گیا اس کے سفری راستے کا پلان ہمارے علم میں نہیں تھا اور نہ ہی ہم سے قبل از وقت ہماری فضاء استعمال کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔

سعودی مسافر طیارے کو کئی ملکوں کے شہروں میں جانا تھا۔ ہمیں طیارے کے سفری پلان کے مطالعے سے پتا چلا کہ سعودی طیارے نے ریاض سے آسٹریلیا کے شہر دارون اور وہاں سے بریزبین جانا تھا۔ ان شہروں تک پہنچنے کے لیے سینگار پور سے گذرتے ہوئے انڈونیشیا کی فضاء استعمال کرنا تھی لیکن انڈونیشیا کی فضاء استعمال کرنے کے لیے ہم سے اجازت نہیں مانگی گئی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انڈونیشیا کے ایک مقامی ٹیلی ویژن چینل’’میٹرو ٹی وی‘‘ نے جیٹ طیاروں کے گھیرے میں سعوی مسافر طیارے کو ایک فوجی اڈے پر اتارے جانے کا منظر براہ راست نشر کیا۔ ہوائی اڈے پر فوجی اہلکار مسلح حالت میں مسافر طیارے کے اترنے کے انتظار میں کھڑے گی۔

اس امر کی وضاحت نہیں ہو سکی کہ مسافر طیارہ سعودی عرب کا تھا یا آسٹریلیا کا، تاہم انڈونیشن ٹی وی نے طیارے کی جو فوٹیج نشر کی ہے اس میں طیارے کی دم پر سعودی عرب کا جھنڈا دکھایا گیا ہے۔ طیارے میں سعودی عرب کے سرکاری وفد کے سات ارکان اور عملے کے چھ افراد سوار تھے۔ انڈونیشیا کی نیوز ویب سائیٹ کے مطابق یہ مسافر طیارہ سعوی عرب کا تھا جس کے کپتان کی شناخت ولید عبدالعزیز کے نام سے ہوئی ہے۔