تعلیمی سکالرشپ، باہر جانے والی سعودی خاتون کو طلاق

سوشل میڈیا پر عوام سابق شوہر اور مطلقہ کے حق میں تقسیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی شہری نے اپنی اہلیہ کو اس لیے طلاق دے دی ہے کہ اس کی اہلیہ نے بیرون ملک تعلیم کے لیے سکالر شپ قبول کر لیا تھا۔ یہ سعودی شہری سعودی عرب کے جنوبی شہر جزان کے ایک گاوں میں رہتا ہے۔

اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس سعودی نے دوسری شادی کر لی ہے اور اپنے خاندان کی مداخلت کے باوجود اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔

واضح رہے پہلی بیوی سے ایک بچہ بھی ہے۔ سعودی محکمہ تعلیم اپنے شہریوں کی بیرون ملک تعلیم پر ہر سال خطیر رقم خرچ کرتا ہے ، جس کے نتیجے میں ہزاروں طلبہ طالبات ہر سال بیرون ملک کے تعلیمی اداروں میں جا رہے ہیں۔ ان طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد مغربی ملکوں میں جاتی ہے۔

اس واقعے پر سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کی رائے تقسیم نظر آتی ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ ''ایک بیوی جو اس کے ساتھ چار سال تک نہ رہ سکے گی اسے طلاق دینے کا شوہر کو حق ہے۔''

ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے بیوی سے کہا ہے کہ ''اسے اپنے شوہر کی بات کو سمجھنا چاہیے اور اس کے ساتھ ہی رہتے ہوئے اپنے بچے ، شوہر اور خاندان کی فکر کرنی چاہیے۔ ''

سوشل میڈیا پر بعض ایسے بھی ہیں جو خاتون کے تعلیم کے لیے باہر جانے کے حق میں ہیں ۔ ان کا موقف ہے کہ ''شوہر کو صرف اپنی زندگی سے دلچسپی ہے اور اسے اپنی اہلیہ کے تعلیمی کیرئیر اور ترقی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ''

کچھ سعودی شہریوں کا کہنا ہے کہ '' شوہر اس بات سے خوفزدہ تھا کہ اس کی بیوی غیر ملکی یونیورسٹی سے گریجوایشن کر لے گی تو اس کا سماجی رتبہ اس سے زیادہ ہو جائے گا۔

سعودی عرب میں طلاق کی شرح خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ ہے ۔ حا لیہ برسوں میں سوشل میڈیا کے استعمال کے بعد مزید اضافے کا رجحان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں