خلیج میں موجود امریکی فوجی فارسی بولنے پر مجبور!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران اور امریکا کی روایتی مخاصمت کی آئے روز نئی نئی مثالیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس ضمن میں ایرانی نیول چیف ایڈمرل علی فدوی کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ ہے کہ ان کے ملک نے خلیج میں موجود امریکی فوجیوں کو فارسی میں بات چیت کرنے پر مجبور کیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو فوٹیج میں ایڈمرل علی فدی یہ دعوی کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کے ملک نے امریکیوں پر واضح کر دیا تھا کہ اگر وہ خلیجی پانیوں میں موجود رہنا چاہتے ہیں تو وہاں پر تعینات فوجیوں کو فارسی زبان میں بات چیت کرنا ہو گی۔

یہ ویڈیو فوٹیج علی فدی کے ٹی وی انٹرویو کے ایک حصے پر مبنی ہے جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ تہران نے خلیجی پانیوں میں موجود امریکیوں پر بھی فارسی زبان کا رنگ چڑھانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی بار امریکیوں پر یہ واضح کیا کہ وہ اگر خلیجی سمندر میں اپنی بقاء چاہتے ہیں تو فوجیوں کے لیے فارسی زبان کی بول چال لازمی قرار دیں۔

ایرانی نیول چیف اور آبنائے ھرمز کی سیکیورٹی کمان کے سربراہ ایڈمرل علی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے کہنے پر امریکا نے خلیجی میں موجود اپنے فوجیوں کو فارسی زبان میں بول چال سکھائی۔ اب خلیج میں موجود تمام بحری بیڑوں پر فارسی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ایڈمرل علی فدوی کے بیان پر مبنی ویڈیو پر شہریوں نے ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے مزاحیہ تبصرے بھی کیے ہیں۔ ایک صاحب نے کمنٹس میں لکھا کہ ’’جی ہاں خلجی پانیوں میں موجود امریکی فارسی زبان کے ساتھ وہی حشر کرتے ہوں گے جو ایرانی انگریزی کے ساتھ کرتے ہیں‘‘۔

خیال ہے کہ دو روز پیشتر بھی ایرانی بحریہ کے انہی اعلی عہدیدار کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران خلیجی پانیوں میں موجود امریکی بحری بیڑے کو 50 سیکنڈز میں غرق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں